امریکہ ایران مذاکرات ہونگے مگر ملاقات نہیں ہوگی!

فہرستِ مضامین

امریکی اور ایرانی موقف میں بنیادی اختلافات اب بھی برقرار ہیں، مگر پاکستان ایک حقیقت پسندانہ اگرچہ محدود کامیابی کا ہدف لے کر آگے بڑھ رہا ہے۔ ہفتہ کے روز اسلام آباد میں شروع ہونے والے ان مذاکرات کا مقصد صرف اتنا ہے کہ دونوں فریق ایک میز پر بیٹھ کر بات چیت جاری رکھنے پر متفق ہو جائیں۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس واشنگٹن سے اسلام آباد روانہ ہو چکے ہیں۔ ان کی قیادت میں امریکی وفد میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چیف مذاکرات کار اسٹیو وٹکوف اور داماد  جیرڈکشنر بھی شامل ہیں۔ ایران کی جانب سےوزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف تہران کی ٹیم کی قیادت کرتے نظر آ رہے ہیں۔

یہ اعلیٰ سطحی مذاکرات صرف چھ ہفتے بعد ہو رہے ہیں جب 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر جنگ مسلط کرتے ہوئے سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای کو شہید کر دیا تھا۔ چند روز پہلے پاکستان کی ثالثی میں دو ہفتے کا سیز فائر طے پایا تھا  اب اسی سیز فائر کو مستقل امن کی طرف لے جانے کی کوشش ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہفتہ کو بڑی پیش رفت کی امید بہت کم ہے۔

پاکستان کا ہدف زیادہ حقیقت پسندانہ ہے صرف اتنا کہ دونوں فریق اتفاق کر لیں کہ بات چیت جاری رکھی جائے۔

سابق سفارت کار  کا کہنا تھا کہ:

پاکستان انہیں ایک میز پر بٹھانے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ اب فیصلہ ان دونوں فریقین کا ہے کہ وہ حتمی حل کے لیے کتنی قربانیاں دینے کو تیار ہیں۔

“پروکسیمیٹی ٹالکس” قریب مگر الگ الگ

امریکی اور ایرانی وفود نور خان ایئر بیس پر اتریں گے، پھر سیرینا ہوٹل جائیں گے جہاں وہ ٹھہریں گے اور مذاکرات ہوں گے۔ 

لیکن دونوں ٹیمیں ایک دوسرے کے سامنے نہیں آئیں گی۔ 

وہ الگ الگ کمروں میں بیٹھیں گی اور پاکستانی افسران پیغامات کی ڈوری چلائیں گے۔ 

اسے سفارتی زبان میں “پروکسیمیٹی ٹالکس”  کہا جاتا ہے۔

پاکستان اس تجربے سے ناآشنا نہیں۔ 1988 میں جنیوا میں سوویت انخلا کے لیے پاکستان خود اسی طرز کے بالواسطہ مذاکرات کا حصہ رہا تھا۔ زمير اکرم نے کہا: 

اگر فریقین کو پاکستان پر اعتماد نہ ہوتا تو وہ یہاں نہ آتے۔ کامیابی کا معیار صرف اتنا ہے کہ عمل جاری رہے۔ یہ ایک دو دن میں حل نہیں ہوگا۔

عالمی حمایت کا طوفان 

سیز فائر کے اعلان کے بعد عالمی رہنماؤں نے پاکستان کی تعریفوں کے پل باندھ دیے۔ 

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیرس، فرانس، ترکی، برطانیہ، قازقستان، رومانیہ — سب نے پاکستان کی ثالثی کی تعریف کی۔ 

وزیر اعظم شہباز شریف نے صرف 48 گھنٹوں میں آٹھ عالمی رہنماؤں سے بات کی اور غیر ملکی وزیر اعظم نے ایک درجن سے زائد ہم منصبوں سے رابطہ کیا۔

سب سے بڑا خطرہ: لبنان

مذاکرات کی میز کے باہر سب سے بڑا بم لبنان ہے۔ 

ایران کا کہنا ہے کہ اسرائیل لبنان پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے جو سیز فائر کی خلاف ورزی ہے۔ 

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے وزیر اعظم شہباز سے کہا تھا کہ اگر حملے جاری رہے تو مذاکرات بے معنی ہو جائیں گے۔ 

ایران جوہری پروگرام پر پابندیوں کا خاتمہ، یورینیم افزودگی کا حق اور جنگ کے نقصان کا معاوضہ چاہتا ہے۔ 

امریکہ قابل تصدیق پابندیاں، افزودگی کی حد اور سٹاک ختم کرنے پر زور دے رہا ہے۔ 

ہرمز آبنائے  جہاں دنیا کا پانچواں حصہ تیل گزرتا ہے  پر ایران کا کنٹرول اب بھی دباؤ کا بڑا ذریعہ ہے۔

جے ڈی وینس نے واشنگٹن سے روانگی سے پہلے کہا: 

ہم مثبت سوچ کے ساتھ جا رہے ہیں۔ اگر ایرانی مخلصانہ بات چیت کریں گے تو ہمارا ہاتھ کھلا ہے۔ 

سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے جنگ کے بعد پہلی بار ایرانی ہم منصب سے بات کی۔ 

ایران کا سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل 15 دن تک بات چیت جاری رکھنے کا اشارہ دے چکا ہے۔

سابق وزیر خارجہ سلمان بشیر کا کہنا ہے: 

لبنان سیز فائر کا حصہ ہے۔ اگر امریکہ واقعی جنگ روکنا چاہتا ہے تو اسرائیل زیادہ دیر دباؤ نہیں ڈال سکے گا۔

پاکستان کا پیغام

پاکستان کوئی بڑا معاہدہ نہیں چاہتا بس سانس لینے کی جگہ چاہتا ہے۔ 

پاکستان کی خواہش چھوٹی ہے امن کا موقع۔ اسے حاصل کرنا بہت مشکل ہے، مگر ناممکن نہیں۔

اب سب نظریں ہفتہ کے روز سیرینا ہوٹل پر ہیں۔ 

کیا جے ڈی وینس اور ایرانی قیادت کے درمیان بالواسطہ طور پر کوئی معاہدہ ہو جائے گا؟ 

کیا 47 سالہ دشمنی کا ایک باب ختم ہونے جا رہا ہے؟ 

یا یہ صرف ایک اور کوشش ہوگی جو بالآخر ناکام ہو جائے گی؟

تاریخ آج رات یا کل لکھی جائے گی۔ 

پاکستان ثالث بن کر کامیاب ہوگا یا صرف میزبان رہ جائے گا؟

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں