ایران تنازع کے معاشی فائدہ مند: وال اسٹریٹ کے بینک، اسلحہ ساز ادارے ، اے آئی  اور گرین انرجی نمایاں

فہرستِ مضامین

اگر ایران میں جاری جنگ طول پکڑتی ہے تو 2026 کے لیے عالمی معیشت کا منظرنامہ مزید خراب ہو سکتا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اپنی تازہ رپورٹ میں عالمی شرح نمو کا تخمینہ 3.3 فیصد سے کم کر کے 3.1 فیصد کر دیا ہے، جس کی بڑی وجہ ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کو قرار دیا گیا ہے۔

توانائی بحران اور عالمی تجارت متاثر

خلیجی خطے میں توانائی کے ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ تیل، گیس، کھاد اور کیمیکلز جیسی اہم برآمدات آبنائے ہرمز کی بندش اور امریکی ناکہ بندی کے باعث رکی ہوئی ہیں۔

آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ طویل ہو گئی تو عالمی شرح نمو 2.5 فیصد تک گر سکتی ہے، جس کا سب سے زیادہ اثر غریب اور ترقی پذیر ممالک پر پڑے گا۔

بحران میں بھی کچھ شعبے مستفید

معاشی دباؤ کے باوجود بعض شعبے ایسے ہیں جو اس غیر یقینی صورتحال سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

سرمایہ کاری بینکوں کی کمائی میں اضافہ

مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ نے سرمایہ کاروں کو مسلسل خرید و فروخت پر مجبور کر دیا ہے، جس سے بڑی سرمایہ کاری بینکوں کی آمدن میں اضافہ ہوا ہے۔

2026 کی پہلی سہ ماہی میں:

مورگن اسٹینلے کا منافع 29 فیصد بڑھ کر 5.57 ارب ڈالر

گولڈمین سیکس کا منافع 19 فیصد اضافے کے ساتھ 5.63 ارب ڈالر

جے پی مورگن کی آمدن 13 فیصد بڑھ کر 16.49 ارب ڈالر تک پہنچ گئی

ماہرین کے مطابق زیادہ ٹریڈنگ اور ڈیلز اس اضافے کی بڑی وجہ ہیں۔

پیشن گوئی مارکیٹس کی تیزی

کرپٹو پر مبنی پلیٹ فارمز جیسے پولی مارکیٹ نے بھی غیر معمولی منافع کمایا ہے، جہاں صارفین مختلف واقعات پر شرطیں لگاتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق پلیٹ فارم روزانہ 10 لاکھ ڈالر سے زائد کما رہا ہے، جبکہ اس سال اس کی مجموعی فیس 34 کروڑ ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔

دفاعی صنعت کا عروج

ایران، یوکرین، غزہ اور دیگر تنازعات کے باعث دفاعی اخراجات میں اضافہ ہوا ہے، جس سے اسلحہ ساز کمپنیوں کو فائدہ ہوا ہے۔

ایرو اسپیس اور دفاعی شعبے کے عالمی انڈیکس میں ایک سال کے دوران 32 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

مصنوعی ذہانت کا شعبہ مضبوط

ایران جنگ کے باوجود مصنوعی ذہانت (AI) کی صنعت مسلسل ترقی کر رہی ہے۔

تائیوان کی بڑی چپ بنانے والی کمپنی TSMC نے 2026 کی پہلی سہ ماہی میں 58 فیصد اضافے کے ساتھ 18.1 ارب ڈالر منافع کمایا۔

ماہرین کے مطابق AI سیکٹر آنے والے برسوں میں مزید وسعت اختیار کرے گا۔

قابلِ تجدید توانائی کی طرف رجحان

جنگ نے ایک بار پھر دنیا کو متبادل توانائی کی اہمیت کا احساس دلایا ہے۔

کئی ممالک نے سولر، ونڈ اور دیگر قابلِ تجدید توانائی منصوبوں میں سرمایہ کاری بڑھا دی ہے۔

ایس اینڈ پی کلین انرجی انڈیکس میں سالانہ بنیاد پر 70 فیصد سے زائد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں