تحریر و ترتیب: اِشفاق احمد
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران شدید مالی دباؤ کا شکار ہے اور امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث روزانہ کروڑوں ڈالر کا نقصان اٹھا رہا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ آیا امریکہ خود اس دباؤ کو کتنی دیر برقرار رکھ سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل پلیٹ فارم “ٹرتھ سوشل” پر کہا کہ ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کھلوانا چاہتا ہے کیونکہ وہ مالی طور پر کمزور ہو رہا ہے، جبکہ ایرانی سیکیورٹی اداروں کو ادائیگیوں میں بھی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
ناکہ بندی اور جوابی اقدامات
13 اپریل سے امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کے خلاف بحری ناکہ بندی شروع کر رکھی ہے، جس کے دوران ایرانی آئل ٹینکرز کو روکا گیا اور عالمی پانیوں میں جہازوں کا رخ موڑا گیا۔ ایران نے اسے “غیر قانونی اقدام” اور “سمندری قزاقی” قرار دیا ہے۔
جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز کو غیر ملکی جہاز رانی کے لیے بند کر دیا اور متعدد غیر ملکی بحری جہاز تحویل میں لے لیے۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ اگر اس کے تیل کی برآمدات محدود کی جائیں گی تو عالمی تجارت بھی محفوظ نہیں رہ سکتی۔
عالمی منڈی پر اثرات
آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور ایل این جی سپلائی گزرتی ہے، کی بندش نے عالمی منڈیوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ تیل کی قیمتیں 90 سے 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں، جس کے باعث ایران نے حالیہ مہینوں میں اربوں ڈالر کمائے—جو جنگ سے پہلے کی آمدنی سے بھی زیادہ ہیں۔
کیا ایران معاشی دباؤ برداشت کر سکتا ہے؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے پاس سمندر میں موجود لاکھوں بیرل تیل کا ذخیرہ ہے، جسے وہ بتدریج فروخت کر سکتا ہے۔ اندازوں کے مطابق ایران کے پاس 160 سے 180 ملین بیرل تک تیل جہازوں میں موجود ہے، جو اسے آنے والے کئی ماہ تک مالی سہارا فراہم کر سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران نے اس طرح کی صورتحال کے لیے پہلے سے تیاری کر رکھی ہے اور وہ طویل المدتی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔
امریکہ کے لیے چیلنجز
دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کو خود بھی اندرونی سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ امریکی قوانین کے تحت وہ محدود مدت تک ہی کانگریس کی منظوری کے بغیر فوجی کارروائی جاری رکھ سکتے ہیں، جس کے بعد انہیں سیاسی اور قانونی رکاوٹوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔
مزید یہ کہ چین جیسے ممالک بھی اس ناکہ بندی پر تحفظات رکھتے ہیں، کیونکہ اس سے ان کی تجارت متاثر ہو رہی ہے، جس سے واشنگٹن پر عالمی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
ایران کی متبادل حکمت عملی
ایران نہ صرف تیل کی فروخت جاری رکھنے کے طریقے تلاش کر رہا ہے بلکہ اس نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کر کے آمدنی کا نیا ذریعہ بھی پیدا کیا ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق کچھ جہاز اس راستے سے گزرنے کے لیے لاکھوں ڈالر ادا کر رہے ہیں۔
عسکری اور سیاسی استحکام
ایرانی قیادت نے داخلی اختلافات کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے مکمل اتحاد کا اظہار کیا ہے۔ صدر مسعود پزیشکیان اور دیگر حکام کا کہنا ہے کہ ملک ہر سطح پر متحد ہے اور کسی بھی دباؤ کا مقابلہ کرے گا۔
عسکری طور پر بھی ایران نے غیر روایتی جنگی حکمت عملی، سائبر حملوں اور پراکسی نیٹ ورکس کے ذریعے اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں کنٹرول برقرار رکھ کر عالمی سطح پر دباؤ بڑھایا ہے۔
اصل آزمائش کس کی؟
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ محض ایران کی بقا کا سوال نہیں بلکہ امریکہ کی برداشت کا بھی امتحان ہے۔ ایران طویل جنگ کے لیے تیار دکھائی دیتا ہے، جبکہ واشنگٹن کو اندرونی سیاست، عالمی دباؤ اور معاشی اثرات کے درمیان توازن قائم رکھنا ہوگا۔