انطالیہ: ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ امن مذاکرات کے اگلے مرحلے کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، جہاں ایران نے واضح کیا ہے کہ تاحال کسی نئے دور کی تاریخ طے نہیں کی گئی۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے ترکی کے شہر انطالیہ میں جاری سالانہ سفارتی فورم کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کی تاریخ اسی وقت طے کی جائے گی جب دونوں فریق بنیادی فریم ورک پر اتفاق کر لیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت تمام توجہ ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمت کے خدوخال کو حتمی شکل دینے پر مرکوز ہے۔ “ہم کسی ایسی بات چیت کا حصہ نہیں بننا چاہتے جو ناکامی کا سبب بنے یا خطے میں مزید کشیدگی پیدا کرے،” انہوں نے واضح کیا۔
خطیب زادہ نے امریکی مؤقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بیانات اور سوشل میڈیا پوسٹس اکثر متضاد اور الجھن پیدا کرنے والے ہوتے ہیں، جس سے سفارتی عمل متاثر ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ اگر بدھ تک جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی طویل مدتی معاہدہ طے نہ پایا تو ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی ختم کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے صدارتی طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ممکن ہے وہ جنگ بندی میں توسیع نہ کریں، تاہم ایرانی بندرگاہوں پر ناکہ بندی برقرار رہے گی۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر صورتحال نہ بدلی تو دوبارہ فوجی کارروائی کا امکان بھی موجود ہے، تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ معاہدہ طے پا جائے گا۔ “ہمیں ابھی کچھ مثبت خبریں ملی ہیں اور لگتا ہے کہ معاملات بہتری کی جانب بڑھ رہے ہیں،” انہوں نے کہا۔
بعد ازاں ایک مختصر ٹیلی فونک گفتگو میں بھی ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ “بہت قریب” ہے اور اس میں اب کوئی بڑی رکاوٹ باقی نہیں رہی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بیک وقت سخت بیانات اور سفارتی رابطوں کا جاری رہنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگرچہ اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک کسی ممکنہ پیش رفت کی جانب بھی بڑھ رہے ہیں۔