ایران کا پاکستان میں ہونے والےمذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت سے انکار

فہرستِ مضامین

ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ پاکستان میں امریکا کے ساتھ کسی بھی ممکنہ مذاکرات میں شرکت کا ارادہ نہیں رکھتا۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق اس حوالے سے کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے۔

دوسری جانب ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد سے مبینہ روابط رکھنے والے نیٹ ورک کے دو افراد کو آج صبح سزائے موت دے دی گئی۔

ادھر اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان کے علاقے کفارکلا میں ایک ایسے راکٹ لانچر کو نشانہ بنایا جو مبینہ طور پر فائر کرنے کے لیے تیار حالت میں تھا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق یہ لانچر اس نام نہاد “ییلو لائن” کے شمال میں واقع تھا، جو اسرائیل نے جنوبی لبنان میں مقرر کر رکھی ہے۔

لبنان میں سرگرم تنظیم حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کل آٹھ اسرائیلی بکتر بند گاڑیوں پر مشتمل ایک قافلے کو نشانہ بنایا، جو طیبہ سے دیر سریان کی جانب بڑھ رہا تھا، جس کے نتیجے میں متعدد دھماکے ہوئے۔

ادھر مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کی کارروائیوں کے نتیجے میں جانی نقصان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک کم از کم 1,151 فلسطینی جاں بحق جبکہ 11,885 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف

ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بیچ تہران کی قیادت نے ایک بار پھر سخت مؤقف اختیار کر لیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ایران اپنے مخالف پر کسی صورت اعتماد نہیں کر سکتا کیونکہ حالات کسی بھی وقت جنگ کی شدت اختیار کر سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران ایک طرف مذاکرات کے عمل میں شامل ہے تو دوسری جانب ہر ممکن اقدام کے لیے بھی تیار ہے، تاہم انہوں نے ان اقدامات کی نوعیت کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں دی۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں اور خطے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

دوسری جانب پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مذاکرات کو ایک اہم شرط سے جوڑ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری دباؤ ختم نہیں ہوتا، واشنگٹن اور تہران کے درمیان اختلافات برقرار رہیں گے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں انہوں نے امریکہ پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی، غیر ضروری دباؤ بڑھانے اور سفارت کاری کے نام پر دوہرا معیار اپنانے کا الزام بھی عائد کیا۔

یہ لفظی محاذ آرائی اس وقت مزید تیز ہو گئی جب امریکی افواج نے “توسکا” نامی ایرانی تجارتی جہاز کو اپنی تحویل میں لے لیا، جسے تہران نے اشتعال انگیز اقدام قرار دیا ہے۔

یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں اسلام آباد میں ہونے والے مذاکراتی دور کے بعد قالیباف نے اس بات کا عندیہ دیا تھا کہ بات چیت میں کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے، لیکن جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز جیسے حساس معاملات پر ابھی کسی حتمی نتیجے تک پہنچنا باقی ہے۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ کن وقت ہے۔ انہوں نے تہران پر زور دیا کہ وہ امریکی پیشکش کو قبول کرے، جسے ان کے بقول “منصفانہ اور معقول” قرار دیا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو ایران کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔

اس کے باوجود ٹرمپ نے مذاکرات کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں کیے اور امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کسی نہ کسی سمجھوتے تک پہنچ سکتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق امریکی وفد، جس کی قیادت اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کر رہے ہیں، آج اسلام آباد روانہ ہوگا جہاں مذاکرات کے اگلے مرحلے کی توقع کی جا رہی ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں