اسلام آباد میں سفارتی سرگرمیاں تیز، ایران کے جواب پر سب کی نگاہیں

فہرستِ مضامین

اسلام آباد میں ممکنہ امن مذاکرات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، جہاں پاکستان ایران کی جانب سے باضابطہ جواب کا منتظر ہے۔

وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کچھ دیر قبل اپنے بیان میں کہا کہ ایران نے تاحال اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کی تصدیق نہیں کی۔ ان کے مطابق پاکستان بطور ثالث مسلسل ایرانی حکام سے رابطے میں ہے اور سفارتی سطح پر کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ بات چیت کا عمل آگے بڑھ سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے ایران کو مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں شامل کرنے کے لیے سنجیدہ اور مخلصانہ کوششیں کی ہیں، کیونکہ دو ہفتوں کی جنگ بندی ختم ہونے سے قبل ایران کا فیصلہ انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

وزیر اطلاعات کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان جاری عارضی جنگ بندی پاکستانی وقت کے مطابق 22 اپریل کی صبح 4 بج کر 50 منٹ پر ختم ہو جائے گی، جس کے باعث سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے۔

دوسری جانب نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اس معاملے پر پاکستان کا مؤقف دہرایا۔ اسلام آباد میں امریکہ کی ناظم الامور نیٹلی بیکر سے ملاقات کے دوران انہوں نے زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ہی واحد مؤثر راستہ ہیں۔

اسحاق ڈار نے دونوں فریقین پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی میں توسیع پر غور کریں اور تنازع کے حل کے لیے بات چیت کو موقع دیں، تاکہ خطہ کسی بڑے بحران سے بچ سکے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں