تحریر: اِشفاق احمد
ایک صارف کی جانب سے خراب کیک کی شکایت نے چین میں ایک بڑے اسکینڈل کا پردہ فاش کر دیا، جس کے نتیجے میں ہزاروں جعلی فوڈ فروخت کرنے والے دکاندار بے نقاب ہوئے، اربوں یوآن کے جرمانے عائد کیے گئے اور سخت قیمتوں کی جنگ کے خطرناک نتائج سامنے آئے۔
یہ معاملہ گزشتہ گرمیوں میں اس وقت شروع ہوا جب بیجنگ کے ایک شہری لیو نے آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے سالگرہ کا کیک منگوایا، جس پر لگا پھول کھانے کے قابل نہیں تھا۔ عدم اطمینان پر اس نے شکایت درج کروائی، جس کے بعد تحقیقات کا آغاز ہوا۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ تقریباً چار سو شاخوں پر مشتمل ایک جعلی کیک شاپ چین جعلی اجازت ناموں کے ساتھ کام کر رہی تھی اور اس کی کوئی حقیقی دکان موجود نہیں تھی۔ اس واقعے کے بعد ملک بھر میں بڑے پیمانے پر تحقیقات شروع ہوئیں، جن میں ایک خفیہ خوراکی سپلائی نظام سامنے آیا۔
اس نظام کے تحت ایک تاجر صارف سے آرڈر لے کر اسے دوسرے پلیٹ فارم پر ڈال دیتا تھا، جہاں مختلف بیکرز کم سے کم قیمت پر آرڈر حاصل کرنے کے لیے بولی لگاتے تھے۔ سب سے کم بولی دینے والا آرڈر حاصل کرتا، جس سے کھانے کے معیار اور حفاظت دونوں متاثر ہوتے تھے۔
چینی خبر رساں ادارے شِنہوا کے مطابق مجموعی طور پر سڑسٹھ ہزار سے زائد ایسے جعلی دکاندار پکڑے گئے، جنہوں نے چھتیس لاکھ سے زائد کیک فروخت کیے تھے۔
چین کے مارکیٹ ریگولیٹر نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ سات بڑی ترسیلی کمپنیوں نے، جن میں پی ڈی ڈی ہولڈنگز، علی بابا گروپ، بائٹ ڈانس، میٹوآن اور جے ڈی ڈاٹ کام شامل ہیں، صارفین کے تحفظ اور دکانداروں کی تصدیق میں ناکامی دکھائی۔
ان کمپنیوں پر مجموعی طور پر تین اعشاریہ چھ ارب یوآن کا ریکارڈ جرمانہ عائد کیا گیا، جو دو ہزار پندرہ کے بعد خوراکی تحفظ کے قوانین کے تحت سب سے بڑی سزا ہے۔
دس ماہ تک جاری رہنے والی اس تحقیقات نے یہ بھی واضح کیا کہ چین میں شدید قیمتوں کی جنگ، جسے “نیجوان” کہا جاتا ہے، کمپنیوں کو معیار قربان کر کے سستی خدمات دینے پر مجبور کر رہی ہے، جس سے نہ صرف خوراکی تحفظ متاثر ہو رہا ہے بلکہ معیشت بھی دباؤ میں آ رہی ہے۔
ایک مثال میں ایک صارف نے دو سو بتیس یوآن کا کیک خریدا، مگر وہی آرڈر پسِ پردہ اسی یوآن تک کی بولی پر کسی بیکر کو دے دیا گیا، جس سے اصل بیکر کو معمولی منافع ملا جبکہ درمیانی پلیٹ فارمز نے بھاری کمائی کی۔
تحقیقات کے دوران حکام کو مزاحمت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ ایک موقع پر ایک ملازم نے خاموش رہنے کا پیغام ساتھی کو دیا اور پکڑے جانے پر کاغذ نگل لیا، جبکہ ایک اور واقعے میں سکیورٹی اہلکاروں نے تحقیقات میں مداخلت کرتے ہوئے دھکم پیل بھی کی۔
ریگولیٹرز کے مطابق بعض کمپنیوں نے معلومات فراہم کرنے میں تاخیر کی، نامکمل یا غلط معلومات دیں۔ سب سے بڑا جرمانہ پی ڈی ڈی ہولڈنگز پر عائد کیا گیا، جس پر عدم تعاون اور غلط معلومات دینے کا الزام تھا۔
بعد ازاں کمپنیوں نے جرمانے قبول کرتے ہوئے اپنی پالیسیوں کو بہتر بنانے اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خاتمے کا عزم ظاہر کیا۔