ٹرمپ نے جنگ بندی بڑھا دی، ایران کا اگلا قدم کیا ہوگا؟

فہرستِ مضامین

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ ایران کی جانب سے نئی تجویز پیش کیے جانے اور مذاکرات کے اختتام تک جنگ بندی میں توسیع کرے گا، تاہم ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی بدستور جاری رہے گی۔

صدر ٹرمپ کے مطابق واشنگٹن سفارتی راستہ کھلا رکھنا چاہتا ہے، لیکن ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے عملی اقدامات بھی جاری رکھے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک تہران جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی شرائط کے ساتھ باضابطہ تجویز پیش نہیں کرتا اور مذاکرات مکمل نہیں ہو جاتے۔

دوسری جانب ایران نے امریکی بحری ناکہ بندی کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ “دھمکیوں کے سائے میں” مذاکرات نہیں کرے گا۔ ایرانی مؤقف کے مطابق جب تک ناکہ بندی ختم نہیں ہوتی، بات چیت کا عمل غیر یقینی رہے گا، جس سے مذاکرات کا مستقبل مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔

خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ ویسٹ بینک میں اسرائیلی آبادکاروں کے حملے میں ایک بچے سمیت دو افراد جاں بحق ہو گئے، جبکہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں سے شہری زخمی اور گھروں کو نقصان پہنچا، حالانکہ وہاں 10 روزہ جنگ بندی نافذ ہے۔

ایران میں اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے خبردار کیا ہے کہ اگر خلیجی ممالک کی سرزمین سے حملے کیے گئے تو مشرق وسطیٰ میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی ناکہ بندی کو “جنگی اقدام” قرار دیا ہے۔

سفارتی محاذ پر تہران نے اشارہ دیا ہے کہ وہ بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کو جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھا جا رہا ہے۔ دوسری جانب امریکہ نے ایران کے اسلحہ پروگرام سے متعلق نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں جبکہ یورپی یونین بھی اپنی پابندیوں میں توسیع پر غور کر رہا ہے۔

امریکہ میں، وائٹ ہاؤس سے رپورٹنگ کے مطابق صدر ٹرمپ کا مؤقف نرم اور سخت بیانات کے درمیان بدلتا رہا ہے۔ وہ ایک طرف مذاکرات کی بات کرتے ہیں تو دوسری جانب ناکہ بندی کو ایران کو بات چیت پر مجبور کرنے کا ذریعہ قرار دیتے ہیں، اور ناکامی کی صورت میں فوجی کارروائی کا عندیہ بھی دیتے ہیں۔

ادھر اسرائیل میں وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف کارروائیوں نے اسرائیل کی پوزیشن مضبوط کی ہے اور نئے علاقائی اتحادوں کی راہ ہموار کی ہے۔

لبنان میں وزیر اعظم نواف سلام کے مطابق جاری تنازع کے انسانی اثرات سے نمٹنے کے لیے 587 ملین ڈالر درکار ہیں۔ اسرائیل اور حزب اللہ ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات لگا رہے ہیں، جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔

عالمی سطح پر بھی اس کشیدگی کے اثرات سامنے آ رہے ہیں، خصوصاً آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت محدود ہونے سے تیل کی عالمی سپلائی اور معیشت کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں