امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف جاری جنگ اور مزید فوجی کارروائی کے منصوبوں کے درمیان امریکی فوج کے اعلیٰ ترین افسر جنرل ڈین کین نے مبینہ طور پر تنازع سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنے پر زور دیا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ٹرمپ انتظامیہ کے اہم عہدیداروں کے سامنے اس بات پر تشویش ظاہر کی ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کو مزید بڑھانے کے لیے دستیاب فوجی آپشنز توقع کے برعکس نتائج دے سکتے ہیں۔ تین ذرائع سے حاصل معلومات کے مطابق جنرل کین کا خیال ہے کہ واشنگٹن کو جنگ سے نکلنے کے لیے ایک قابلِ عمل راستہ تلاش کرنا چاہیے۔
Dan Caine امریکی فوج کے سب سے اعلیٰ رینک والے افسر اور صدر کے اہم فوجی مشیر ہیں۔ وہ 11 اپریل 2025 کو جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے 22ویں چیئرمین بنے تھے۔
صرف فضائی حملوں سے جنگ جیتنا مشکل؟
رپورٹس کے مطابق جنرل کین کی تشویش کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ صرف فضائی طاقت کے استعمال سے صدر ٹرمپ کے مطلوبہ سیاسی اور فوجی اہداف حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
ان کے مطابق ایران کے خلاف مزید بڑے حملے امریکی فوج کے لیے نئے خطرات پیدا کر سکتے ہیں، جبکہ مسلسل فضائی کارروائیاں جنگ کو ختم کرنے کے بجائے اسے مزید طویل کر سکتی ہیں۔ اسی لیے جنرل کین مبینہ طور پر جنگ کو مزید پھیلانے کے بجائے سفارتی یا سیاسی راستہ تلاش کرنے کے حامی ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ میں اختلافات؟
جنرل کین کی تشویش ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایران جنگ سے متعلق امریکی انتظامیہ کے اندر بھی مختلف آرا کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق جنرل کین نے سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور نائب صدر جے ڈی وینس سمیت دیگر اہم حکام کے ساتھ جنگ کے ممکنہ اختتام اور ’’آف ریمپ‘‘ یعنی تنازع سے نکلنے کے راستے پر بات کی ہے۔
یہ صورتحال اس لیے بھی اہم ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران پر فوجی دباؤ جاری رکھنے اور مزید کارروائی کی دھمکیوں کے برعکس فوجی قیادت جنگ کے طویل ہونے کے ممکنہ نقصانات پر غور کر رہی ہے۔
ہتھیاروں کے ذخائر بھی بڑا مسئلہ
ایران کے خلاف طویل جنگ کا ایک اہم چیلنج امریکی ہتھیاروں اور میزائل انٹرسیپٹرز کے ذخائر بھی ہیں۔
اس سے پہلے بھی جنرل کین نے ایران کے خلاف بڑے فوجی آپریشن کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے تھے۔ فروری میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کو خبردار کیا تھا کہ امریکی اسلحے کے ذخائر پر پہلے ہی دباؤ ہے اور کسی بڑے آپریشن کی صورت میں امریکی فوجیوں کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
جولائی میں بھی رپورٹس سامنے آئیں کہ جنرل کین نے بڑے پیمانے پر دوبارہ جنگی کارروائیاں شروع کرنے سے متعلق تشویش ظاہر کی تھی، کیونکہ اس سے امریکی سینٹرل کمانڈ کے پاس موجود میزائل انٹرسیپٹرز کے ذخائر تیزی سے کم ہو سکتے ہیں۔
جنگ کی قیمت بھی بڑھتی جا رہی ہے
ایران جنگ امریکا کے لیے صرف فوجی نہیں بلکہ مالی طور پر بھی ایک بڑا بوجھ بنتی جا رہی ہے۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے مطابق 21 جولائی 2026 تک ایران کے خلاف جنگ پر امریکا کے تقریباً 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے تھے، جبکہ پینٹاگون نے مزید 87.6 ارب ڈالر کی اضافی فنڈنگ بھی طلب کی تھی۔
رپورٹس کے مطابق جنگ میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتیں اور زخمی ہونے والے اہلکاروں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے، جبکہ خطے میں امریکی فوجی تنصیبات اور اتحادی مفادات کو مسلسل خطرات لاحق ہیں۔
اب ٹرمپ کے سامنے کیا راستہ ہے؟
جنرل کین کی مبینہ تشویش نے صدر ٹرمپ کے سامنے ایک مشکل سوال کھڑا کر دیا ہے: کیا ایران پر مزید فوجی دباؤ ڈال کر مطلوبہ نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں یا جنگ سے نکلنے کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنا ہوگا؟
امریکی فوجی قیادت کی جانب سے جنگ کے ممکنہ نقصانات، ہتھیاروں کے ذخائر، فوجی جانی نقصان اور محدود فوجی آپشنز پر تشویش اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایران تنازع واشنگٹن کے لیے آسان فوجی مہم ثابت نہیں ہو رہا۔
تاہم یہ بات بھی اہم ہے کہ جنرل کین کی جانب سے صدر ٹرمپ کو نجی طور پر دی جانے والی مشاورت کی مکمل تفصیلات سرکاری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔ ان کے دفتر نے بھی نجی مشاورت پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
یوں ایران جنگ اب صرف واشنگٹن اور تہران کے درمیان محاذ نہیں رہی بلکہ امریکی انتظامیہ کے اندر بھی یہ سوال اہم ہوتا جا رہا ہے کہ جنگ کو مزید بڑھایا جائے یا اس سے نکلنے کا راستہ تلاش کیا جائے۔