میر رضا کیس کی سماعت، ابتدائی گواہوں کے بیانات جمع نہ کرانے کا انکشاف

فہرستِ مضامین

کراچی: میر رضا علی خان کی ہلاکت کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن نے پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید اور میڈیکل بورڈ کے سربراہ پروفیسر نسیم کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کے نوٹس جاری کردیے ہیں، جبکہ آج کی کارروائی کا تحریری حکم نامہ بھی جاری کردیا گیا۔

کمیشن کے تحریری حکم نامے کے مطابق سماعت کے دوران حیثم، رازق اور ایس ایچ او کامران قریشی کے بیانات ریکارڈ کیے گئے، تاہم ابتدائی گواہوں کے بیانات کمیشن کو فراہم نہیں کیے جاسکے۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ کمیشن نے پہلی سماعت کے دوران پولیس کو ضابطہ فوجداری کے تحت گواہوں کے بیانات فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی، تاہم ان ہدایات پر مکمل عملدرآمد نہیں کیا گیا۔

تحریری حکم نامے کے مطابق یکم ستمبر کو ریکارڈ کیے گئے رازق اور حیثم کے دفعہ 161 کے بیانات آج کمیشن میں جمع کرائے گئے۔

پولیس نے کمیشن کو بتایا کہ ان بیانات کے علاوہ ریکارڈ میں ایسی کوئی دستاویز موجود نہیں جو مزید فراہم کی جاسکے۔

حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ نے کمیشن کو یقین دہانی کرائی کہ تمام متعلقہ ریکارڈ فراہم کیا جاچکا ہے۔

کمیشن نے ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس معاملے کی انکوائری کریں کہ آیا کوئی رپورٹ یا دستاویز فراہم ہونے سے رہ تو نہیں گئی۔ اگر کوئی ایسی رپورٹ موجود ہو تو اسے سیل شدہ حالت میں کمیشن کے سامنے پیش کیا جائے۔

جوڈیشل کمیشن نے ایس ایچ او عدیل افضال اور ہیڈ محرر ذیشان کو بھی آئندہ سماعت پر لازمی طور پر پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

کمیشن کی آئندہ کارروائی 8 ستمبر کو ہوگی۔

میر رضا کیس کا پس منظر

کراچی کے نوجوان میر رضا علی خان 28 جولائی کو پاکستان ایمپلائز ہاؤسنگ سوسائٹی (پی ای سی ایچ ایس) سے لاپتہ ہوئے تھے۔ وہ صبح 4 بج کر 9 منٹ پر آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گھر سے روانہ ہوئے، تاہم دو روز بعد ان کی لاش گلستانِ جوہر سے برآمد ہوئی۔

پولیس حکام کے مطابق میر رضا کی لاش انتہائی خراب حالت میں ملی تھی اور ان کے سینے پر گولی لگی ہوئی تھی۔ پولیس کے مطابق لاش ملنے سے ایک روز قبل میر رضا کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی بند کردیے گئے تھے۔

مقتول کے والد نے بتایا تھا کہ میر رضا کا 30 اگست کو گلشنِ اقبال کی بیت المکرم مسجد میں نکاح ہونا تھا اور وہ اپنی نئی زندگی کے آغاز پر بہت خوش تھے۔

میر رضا کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر سوالات اس وقت اٹھے جب 4 اگست کو جیو نیوز کے پروگرام ’’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ‘‘ میں پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موجود خامیوں پر گفتگو کی گئی۔

پروگرام میں پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید اور میر رضا کے والد نے بھی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔

بعد ازاں عدالتی حکم پر 8 اگست کو میر رضا کی قبر کشائی کی گئی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کے بعد اسی روز ان کی تدفین کردی گئی۔

ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ میر رضا کو گولی پیچھے سے لگی تھی، جبکہ جسم پر تشدد کے متعدد نشانات بھی موجود تھے۔ رپورٹ کے مطابق ان کی پسلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں اور سر، چہرے اور جسم کے مختلف حصوں پر زخموں کے نشانات پائے گئے تھے۔

رپورٹ میں میر رضا کے پیروں پر بھی زخموں، جسم کے نچلے حصے کے ٹشوز پر خون کے دھبوں اور دائیں ران میں تقریباً 12 سینٹی میٹر طویل فریکچر اور زخم کی نشاندہی کی گئی تھی۔

ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق میر رضا کے جبڑے کے حصے میں گہری چوٹ اور فریکچر کے شواہد بھی ملے تھے، جبکہ ناک کی ہڈی اور چہرے کے مختلف حصوں پر بھی چوٹیں ریکارڈ کی گئی تھیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں