ایران پر حملہ روکنے کے پیچھے کون تھا؟ بڑا راز سامنے آگیا

فہرستِ مضامین

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف مجوزہ فوجی کارروائی کو سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات سمیت اہم اتحادی ممالک کے مشورے پر مؤخر کیا گیا تاکہ سفارتی کوششوں اور مذاکرات کو کامیاب ہونے کا موقع دیا جا سکے۔

خبر رساں اداروں ایسوسی ایٹڈ پریس اور اے ایف پی کے مطابق ٹرمپ نے اتوار کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکی افواج ایران پر ایک بڑے حملے کے لیے مکمل طور پر تیار تھیں، جسے انہوں نے دوسری جنگ عظیم کے بعد ممکنہ طور پر سب سے بڑی فوجی کارروائی قرار دیا۔

صدر ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سمیت خلیجی رہنماؤں سے مشاورت کی۔ ان کے بقول ولی عہد نے حملے کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دینے کا مشورہ دیا کیونکہ کسی بڑے فوجی اقدام کے نتائج غیر متوقع ہو سکتے تھے۔

ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی حکام کی جانب سے بھی سفارتی حل کی خواہش ظاہر کی گئی، جس کے بعد انہوں نے عسکری کارروائی روک کر سیاسی راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔

مذاکرات کا نیا مرحلہ

امریکی صدر کے مطابق ایران کے ساتھ مذاکرات کا نیا دور پیر سے شروع ہوگا، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ بات چیت کہاں ہوگی یا اس میں کون سے ممالک شریک ہوں گے۔

اس سے قبل ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر دعویٰ کیا تھا کہ مشرق وسطیٰ کے اتحادی ممالک جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ممکنہ معاہدے کے بنیادی نکات پر اتفاق کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

معیشت پر فوری اثر

ایران پر حملہ مؤخر کیے جانے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی اور ایک ہی روز میں فی بیرل قیمت تقریباً چار ڈالر تک گر گئی۔

واشنگٹن کی کوشش ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر نئی شرائط طے کی جائیں اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ محفوظ بحری آمدورفت کے لیے کھولا جائے، کیونکہ یہ گزرگاہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔

ایران کا مؤقف

دوسری جانب ایران نے ٹرمپ کے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران نے امریکہ سے حملے روکنے کی کوئی درخواست نہیں کی۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز میں متبادل بحری راستے سے متعلق پیش رفت جاری ہے، جبکہ اتوار کو آبنائے ہرمز کے قریب ایک بحری جہاز میں دھماکے کی اطلاع نے خطے میں سیکیورٹی خدشات مزید بڑھا دیے۔

پس منظر

واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے بعد مسلسل برقرار ہے۔ اگرچہ گزشتہ چند ماہ کے دوران سفارتی رابطوں کے باعث حالات نسبتاً بہتر ہوئے، تاہم حالیہ ہفتوں میں دوبارہ بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں نے خطے میں نئی تشویش پیدا کر دی تھی۔

صدر ٹرمپ اس سے قبل ایران کو سخت فوجی کارروائی کی دھمکیاں بھی دے چکے تھے اور امریکی سفارت خانوں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا تھا، لیکن اب ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنا زیادہ مؤثر راستہ ہو سکتا ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں