کراچی: سندھ حکومت کی جانب سے بلدیاتی ایکٹ 2013 میں ترامیم کے لیے پیش کیے گئے مسودے پر سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس بے نتیجہ ختم ہوگیا۔ ایم کیو ایم، پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی نے پیپلزپارٹی کے مجوزہ ترمیمی مسودے کو مسترد کرتے ہوئے مختلف شقوں پر سخت اعتراضات اٹھائے۔
پارلیمانی وزیر ضیا الحسن لنجار کی زیرِ صدارت قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں نے خاص طور پر ان ترامیم کی مخالفت کی جن کے تحت موجودہ منتخب بلدیاتی نمائندوں کو نئی بلدیاتی انتخابات تک دوبارہ ایڈمنسٹریٹر مقرر کرنے اور پولیس کو مصالحتی کمیٹیوں میں شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ بل کے مسودے پر ایم کیو ایم سمیت تمام سیاسی جماعتوں نے اپنی تجاویز پیش کیں، جن میں سے قابلِ قبول تجاویز کو شامل کیا گیا ہے، تاہم اپوزیشن اس معاملے پر بلاوجہ سیاست کرنا چاہتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کا مقصد سندھ میں بلدیاتی انتخابات بروقت کرانا اور الیکشن کمیشن کو بااختیار بنانا ہے۔ حکومت نہیں چاہتی کہ پنجاب اور دیگر صوبوں کی طرح سندھ میں بھی بلدیاتی انتخابات کا انعقاد نہ ہو۔
دوسری جانب ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر افتخار عالم اور ڈپٹی پارلیمانی لیڈر طٰحہ احمد نے کہا کہ ایم کیو ایم کو پیپلزپارٹی کے ترمیمی مسودے پر سخت اعتراضات ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اعتراضات کے باوجود بل منظور کرایا گیا تو ایم کیو ایم سڑکوں پر احتجاج کرے گی۔
پی ٹی آئی کے پارلیمانی رہنما شبیر قریشی نے بھی حکومتی تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت موجودہ منتخب نمائندوں کو دوبارہ ایڈمنسٹریٹر مقرر کرنے کی مخالفت کرتی ہے۔
جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی فاروق احمد نے بھی مسودے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی مجوزہ بل کے خلاف عدالت سے رجوع کرے گی۔