ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قاليباف نے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے مذاکرات کے آغاز سے قبل جنگ بندی کی تجاویز کے دس نکاتی منصوبے کی 3 اہم شقوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
قاليباف نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ ان خلاف ورزیوں میں لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزی، ایرانی فضائی حدود میں ڈرونز کا داخل ہونا اور ایران کے یورینیم کی افزودگی کے حق کا انکار شامل ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کی شرائط واضح ہیں اور واشنگٹن کو جنگ بندی یا اسرائیل کے ذریعے جنگ کے تسلسل میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا، وہ یہ دونوں ایک ساتھ حاصل نہیں کر سکتا۔
عراقچی نے لبنان پر اسرائیلی حملوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا “اب گیند امریکہ کے کورٹ میں ہے اور دنیا دیکھ رہی ہے کہ آیا وہ اپنے وعدے پورے کرتا ہے یا نہیں۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیوٹ نے بدھ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے مشرق وسطیٰ کی جنگ ختم کرنے کے لیے ایک زیادہ منطقی منصوبہ تجویز کیا ہے، اس سے قبل ایران نے ایک ایسا منصوبہ پیش کیا تھا جسے امریکہ نے ناقابل قبول قرار دیا تھا۔
لیوٹ نے انکشاف کیا کہ ایران نے اشارہ دیا ہے کہ وہ افزودہ یورینیم کے اپنے ذخائر حوالے کر دے گا۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وائٹ ہاؤس کے ایک امریکی عہدے دار نے بدھ کو کہا ہے کہ ایران کی جانب سے شائع کردہ دس نکاتی جنگ بندی کا منصوبہ وہ شرائط نہیں ہیں جن پر امریکہ نے جنگ روکنے کے لیے اتفاق کیا ہے۔ اعلیٰ عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ “میڈیا میں گردش کرنے والی دستاویز اصل فریم ورک نہیں ہے”۔
اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ “نکات” کا صرف ایک ہی مجموعہ ہے جسے امریکہ قبول کرتا ہے، ان نکات پر بند کمرہ اجلاسوں میں بات چیت کی جائے گی۔
ٹرمپ نے اپنے پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” اکاؤنٹ پر لکھا “بہت سے معاہدے، فہرستیں اور پیغامات ایسے لوگوں کی طرف سے بھیجے جا رہے ہیں جن کا امریکہ اور ایران کے مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں ہے، بہت سے معاملات میں وہ دھوکے باز اور شعبدہ باز ہیں، بلکہ اس سے بھی بد تر ہیں۔ ہماری وفاقی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد انہیں جلد بے نقاب کر دیا جائے گا۔ نکات کا صرف ایک ہی اہم مجموعہ ہے جو امریکہ کو قبول ہے، اور ہم ان مذاکرات کے دوران بند کمرہ اجلاسوں میں ان پر بحث کریں گے۔ یہ وہی نکات ہیں جن کی بنیاد پر ہم نے جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا