روس کی ٹرمپ کو وارننگ: ہرموز ناکابندی قبول نہیں

فہرستِ مضامین

آبنائے ہرمز پر ممکنہ ناکہ بندی یا فوجی کارروائی سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کے بعد عالمی سطح پر کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ اس صورتحال پر روس نے سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات خطے کو ایک نئے جنگی بحران کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔

روسی صدارتی دفتر (کریملن) کے ترجمان کے مطابق آبنائے ہرمز جیسے اہم عالمی تیل کے راستے پر کسی بھی قسم کی بندش یا فوجی دباؤ “بین الاقوامی قانون اور عالمی معیشت کے لیے خطرہ” بن سکتا ہے۔

روس کا مؤقف: نئے تنازع سے خبردار

کریملن کے ترجمان نے غیر رسمی مگر سخت لہجے میں کہا کہ:

آبنائے ہرمز جیسے حساس بحری راستے کو بند کرنا یا خطرے میں ڈالنا عالمی توانائی منڈیوں کو متاثر کرے گا

ایسے اقدامات تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے اور عالمی معاشی بحران کا سبب بن سکتے ہیں

خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھانا “غلط حکمت عملی” ہوگی

روس کا کہنا ہے کہ مسائل کا حل فوجی دباؤ کے بجائے سفارتکاری اور مذاکرات کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔

پس منظر: ٹرمپ کے بیانات اور بڑھتی کشیدگی

امریکی صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات میں آبنائے ہرمز کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کیے جانے کے بعد عالمی میڈیا میں بحث چھڑ گئی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل کے گزرگاہوں میں سے ایک ہے، جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر یہاں کسی بھی قسم کی ناکہ بندی یا فوجی تصادم ہوا تو:

عالمی تیل کی سپلائی متاثر ہوسکتی ہے

تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوسکتا ہے

مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی جنگی صورتحال جنم لے سکتی ہے

عالمی ردعمل: بڑھتی تشویش

روس کے علاوہ دیگر عالمی طاقتوں نے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق کئی ممالک چاہتے ہیں کہ:

ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست کشیدگی سے گریز کیا جائے

آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستے کو کسی بھی فوجی تنازع سے محفوظ رکھا جائے

مسئلے کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالا جائے

بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق سخت بیانات خطے میں پہلے سے موجود غیر یقینی صورتحال کو مزید بگاڑ سکتے ہیں۔

ان کے مطابق روس کا ردعمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ:

عالمی طاقتیں اس مسئلے کو صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی سلامتی کا معاملہ سمجھتی ہیں

توانائی کی سیاست اب عالمی جیوپولیٹکس کا مرکزی محور بن چکی ہے

ٹرمپ کے بیانات کے بعد روس کا سخت ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ آبنائے ہرمز کا معاملہ اب صرف علاقائی نہیں رہا بلکہ ایک عالمی سیاسی و معاشی بحران کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔

اگر سفارتی حل نہ نکالا گیا تو آنے والے دنوں میں صورتحال مزید سنگین ہوسکتی ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں