وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے واضح کیا ہے کہ موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت مکمل کرے گی اور وزیراعظم شہباز شریف پورے پانچ سال تک اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے خاتمے یا وزیراعظم سے اختلافات کی خبروں میں کوئی حقیقت نہیں۔
جیو نیوز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں محسن نقوی نے کہا کہ وہ وزیراعظم کو مشورہ دیں گے کہ وفاقی کابینہ کی تمام وزارتوں کی کارکردگی کا غیر جانبدارانہ جائزہ کسی تھرڈ پارٹی سے کرایا جائے اور اس کی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی جائے، تاکہ واضح ہو سکے کہ کون سی وزارت کتنی مؤثر انداز میں کام کر رہی ہے۔
انہوں نے اپنی کابینہ میں حاضری کے حوالے سے کہا کہ ان کی شرکت تقریباً 70 فیصد رہی ہے۔ اپنے ناقدین کے ردعمل میں انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے کہا کہ انہوں نے “30 سال کا سفر صرف 3 سال میں طے کیا”، وہ ان کے شکر گزار ہیں۔
محسن نقوی نے ایک بار پھر اپنے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ ملک کا نظام کئی دہائیوں سے کمزور اور غیر مؤثر ہے۔ ان کے مطابق انہوں نے کبھی موجودہ حکومت پر تنقید نہیں کی بلکہ یہ کہا تھا کہ گزشتہ 80 برسوں میں نظام بتدریج تباہ ہوا ہے۔ اگر یہی نظام درست انداز میں چل رہا ہوتا تو پاکستان آج کہیں زیادہ ترقی کر چکا ہوتا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ کچھ حلقے ان کے اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان اختلافات کی خبریں پھیلانا چاہتے ہیں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ان کے مطابق وزیراعظم دن میں 14 سے 16 گھنٹے کام کر رہے ہیں اور اگر انہیں ایک مضبوط اور مؤثر نظام ملتا تو ملک کی ترقی کی رفتار کئی گنا زیادہ ہوتی۔
انہوں نے حکومت کی چند اہم کامیابیوں کا بھی ذکر کیا، جن میں ایف بی آر کی آمدن میں اضافہ، جنگی محاذ پر کامیابی اور سفارتی سطح پر مثبت پیش رفت شامل ہیں۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ نظام میں بہتری آنے سے حکومتی کارکردگی کے نتائج مزید نمایاں ہوں گے۔