کراچی پولیس نے 48 گھنٹوں کے اندر ایک بلائنڈ مرڈر کے کیس کو حل کرتے ہوئے دو خواتین سمیت چار ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، جو ایک چونکا دینے والے اور منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے قتل میں ملوث تھے۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ 10 اپریل 2026 کو پیش آیا، جب 33 سالہ نوجوان ریحان ولد غلام نبی کو صبح سویرے ایک مسجد کے باہر فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔ اس واقعے کا مقدمہ خواجہ اجمیر نگری تھانے میں قتل کی دفعات کے تحت درج کیا گیا۔
ایس ایس پی سینٹرل ڈاکٹر محمد عمران خان کی ہدایات پر ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی۔ ٹیم نے انسانی ذرائع، تکنیکی تجزیے اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزمان کا سراغ لگا کر انہیں گرفتار کر لیا۔
پولیس حکام کے مطابق ابتدائی طور پر اس قتل کو ڈکیتی یا ٹارگٹ کلنگ قرار دیا جا رہا تھا، تاہم تحقیقات کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ یہ ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا جرم تھا۔ مرکزی ملزمان شیزان اور جبران کے ساتھ ایک خاتون “ایف” اور اس کی والدہ فاطمہ بھی اس سازش میں شامل تھیں۔
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ قتل کی منصوبہ بندی ایک رئیل اسٹیٹ آفس میں ہونے والی ملاقات کے دوران کی گئی۔ ملزمان نے ایک لائسنس یافتہ 9 ایم ایم پستول استعمال کیا، جو مبینہ طور پر ایک گھر سے چوری کیا گیا تھا، اور اس وقت حملہ کیا جب مقتول فجر کی نماز کے لیے مسجد جا رہا تھا۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزمان کو واردات کے وقت نہایت اطمینان سے موقع پر آتے ہوئے دیکھا گیا۔ مزید انکشافات سے معلوم ہوا کہ خاتون ملزمہ نے مقتول کی روزمرہ کی روٹین سے متعلق معلومات فراہم کی تھیں۔
پولیس کے مطابق اس قتل کا محرک ذاتی نوعیت کا معلوم ہوتا ہے، کیونکہ خاتون ملزمہ مبینہ طور پر مقتول کو اپنی زندگی سے ہٹانا چاہتی تھی۔
چاروں ملزمان کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور آلہ قتل بھی برآمد کر لیا گیا ہے، جبکہ مزید تفتیش اور قانونی کارروائی جاری ہے۔