ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے صبح سویرے ایک امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔
ایرانی خبر ایجنسی تسنیم کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی بندر عباس ایئرپورٹ کے قریب ہونے والے امریکی حملوں کے جواب میں کی گئی۔ بیان میں امریکی اڈے کے مقام کی تفصیلات تو نہیں بتائی گئیں، تاہم ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے مزید حملے کیے تو اس کا جواب پہلے سے زیادہ سخت اور فیصلہ کن ہوگا۔
دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی فوج نے آبنائے ہرمز میں موجود ایرانی ڈرون نیٹ ورک کو نشانہ بنایا، جو امریکی افواج اور تجارتی جہاز رانی کے لیے خطرہ بن رہا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق کارروائی کے دوران چار ایرانی حملہ آور ڈرون تباہ کیے گئے جبکہ بندر عباس کے قریب ایک زمینی کنٹرول سٹیشن کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک امریکی آئل ٹینکر پر فائرنگ کی، جس کے بعد جہاز کو واپس مڑنا پڑا۔ تاہم امریکی حکام نے اس حوالے سے کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے سے متعلق خبروں پر محتاط مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ابھی تک تہران کی پیشکشوں سے مطمئن نہیں۔ وائٹ ہاؤس میں کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران معاہدہ چاہتا ہے، مگر ابھی معاملات حتمی مرحلے تک نہیں پہنچے۔
صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ یا تو معاہدہ ہو جائے گا یا پھر امریکا کو “کام مکمل” کرنا پڑے گا، جسے مبصرین نے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کا اشارہ قرار دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف خطے کے امن بلکہ عالمی تیل کی ترسیل اور عالمی معیشت کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔