نیتن یاہو اور اہلیہ کے بیوٹی اخراجات نے اسرائیل میں ہنگامہ کھڑا کردیا

فہرستِ مضامین

بین الاقوامی: اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کی اہلیہ سارہ نیتن یاہو کے ذاتی حلیے اور میک اپ سے متعلق سرکاری اخراجات کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد اسرائیل میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2019 سے اگست 2026 کے دوران اسرائیلی خزانے سے وزرائے اعظم کی ہیئر اسٹائلنگ اور کاسمیٹکس پر تقریباً 14 لاکھ 30 ہزار شیکل خرچ کیے گئے، جس میں سے تقریباً 90 فیصد اخراجات نیتن یاہو اور ان کی اہلیہ سے متعلق بتائے گئے ہیں۔

یہ تفصیلات اسرائیلی تنظیم فریڈم آف انفارمیشن موومنٹ کی جانب سے دسمبر 2025 میں عدالت سے رجوع کیے جانے کے بعد سامنے آئیں۔ تنظیم نے وزیراعظم کے ذاتی نوعیت کے اخراجات کے لیے عوامی فنڈز کے استعمال کی تفصیلات طلب کی تھیں۔

وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے فراہم کردہ معلومات میں کاسمیٹکس اور ہیئر اسٹائلنگ کے علاوہ ریاستی نمائندگی سے متعلق لباس، مہمان نوازی اور دیگر اخراجات بھی شامل تھے۔ تاہم دستاویزات میں بعض اخراجات کی تفصیلات مکمل طور پر یکساں نہیں تھیں۔

2023 میں اخراجات میں نمایاں اضافہ

عبرانی اخبار یدیعوت احرونوت کے مطابق ستمبر، اکتوبر اور نومبر 2023 کے دوران وزیراعظم کے ہیئر اسٹائلنگ اور بیوٹی سروسز پر ہزاروں شیکل خرچ کیے گئے۔

صرف اکتوبر 2023 میں وزیراعظم کے ہیئر اسٹائل کے لیے 2,457 شیکل ادا کیے گئے، جبکہ ستمبر سے نومبر تک ہیئر اسٹائلنگ اور بیوٹی سروسز کی مجموعی رقم تقریباً 12 ہزار 700 شیکل رہی۔

سالانہ بنیادوں پر 2023 میں کاسمیٹکس اور ہیئر اسٹائلنگ کے اخراجات تقریباً 3 لاکھ 12 ہزار شیکل تک پہنچ گئے، جبکہ 2022 میں یہ رقم تقریباً 84 ہزار شیکل تھی۔

رپورٹ کے مطابق 2025 میں اس مد میں سب سے زیادہ سالانہ اخراجات ریکارڈ ہوئے، جو تقریباً 3 لاکھ 37 ہزار شیکل تھے۔

واشنگٹن دوروں کے دوران بھی ہزاروں ڈالر خرچ

دستاویزات سے معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم کے بیرون ملک دوروں کے دوران بھی بیوٹی اور ہیئر اسٹائلنگ سروسز پر اخراجات کیے گئے۔

فروری 2025 میں واشنگٹن کے دورے کے دوران ایک بیوٹیشن اور ہیئر اسٹائلسٹ کو تقریباً 13 ہزار 500 ڈالر ادا کیے گئے، جبکہ جولائی 2024 کے واشنگٹن دورے میں بھی ان خدمات پر تقریباً 11 ہزار 500 ڈالر خرچ ہوئے۔

بعض دستاویزات میں سکیورٹی وجوہات کی بنا پر وزیراعظم کے ساتھ کام کرنے والے بیوٹیشنز اور ہیئر اسٹائلسٹس کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔

مختلف وزرائے اعظم کے اخراجات

دستاویزات کے مطابق نیتن یاہو کے دور میں کاسمیٹکس اور ہیئر اسٹائلنگ سے متعلق اخراجات تقریباً 4 لاکھ 8 ہزار شیکل رہے۔

اس کے مقابلے میں نفتالی بینیٹ کے دور میں یہی اخراجات تقریباً 57 ہزار شیکل جبکہ یائر لاپید کے دور میں تقریباً 8 ہزار شیکل ریکارڈ کیے گئے۔

دریں اثنا فریڈم آف انفارمیشن موومنٹ نے زیورات، کپڑوں اور حلیے سے متعلق مشاورت کے اخراجات کی تفصیلات بھی طلب کی تھیں، تاہم یہ معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

عوامی پیسوں کے استعمال پر سوالات

فریڈم آف انفارمیشن موومنٹ کے ڈائریکٹر جنرل ایڈووکیٹ ہیڈی نگیو نے وزیراعظم کے دفتر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوامی فنڈز کے استعمال سے متعلق معلومات کے حصول میں بار بار رکاوٹیں پیدا کی جاتی ہیں اور بعض معاملات میں معلومات کے لیے عدالت سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔

ان کے مطابق معاملہ صرف سرکاری رقم کے استعمال کی نگرانی تک محدود نہیں بلکہ قانون کے تحت حکومتی اداروں کی شفافیت اور رپورٹنگ کی ذمہ داری سے بھی متعلق ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوامی فنڈز کے استعمال کو مناسب نگرانی اور جواب دہی کے بغیر نہیں چھوڑا جا سکتا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں