نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ امریکہ-ایران جنگ بندی “لبنان کو شامل نہیں کرتی”

فہرستِ مضامین

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے ایران پر حملے معطل کرنے کے امریکی فیصلے کی حمایت کا اظہار کیا ہے، تاہم کہا ہے کہ دو ہفتوں کی جنگ بندی لبنان میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر لاگو نہیں ہوگی۔

بدھ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ان کوششوں کی حمایت کرتا ہے جن کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ “ایران اب امریکہ، اسرائیل، ایران کے عرب ہمسایوں اور دنیا کے لیے جوہری، میزائل اور دہشت گردی کا خطرہ نہ رہے۔”

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ دو ہفتوں کی جنگ بندی “لبنان کو شامل نہیں کرتی۔”

نیتن یاہو کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ، ایران اور ان کے اتحادی “ہر جگہ فوری جنگ بندی” پر متفق ہو گئے ہیں، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔
شہباز شریف کے مطابق یہ جنگ بندی “فوری طور پر نافذ العمل” ہے۔

دوسری جانب لبنان کی نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق اسرائیلی فوج نے ملک کے جنوبی علاقوں میں حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اسرائیلی افواج نے صور کے علاقے کے جنوبی قصبے صریفا پر بمباری کی اور قریبی عمارت کے لیے انخلا کی وارننگ بھی جاری کی۔

لبنانی فوج نے بدھ کے روز عوام کو جنوبی علاقوں میں واپس جانے سے خبردار کیا۔
اپنے بیان میں فوج نے کہا کہ “علاقائی صورتحال اور جنگ بندی سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کے پیش نظر شہریوں سے اپیل ہے کہ وہ جنوبی دیہات اور قصبوں میں واپسی سے پہلے انتظار کریں اور ان علاقوں کے قریب نہ جائیں جہاں اسرائیلی افواج پیش قدمی کر چکی ہیں، کیونکہ وہ جاری حملوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔”

لبنان 2 مارچ کو اس وقت امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہوا جب ایران کے حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ نے اسرائیل پر حملے شروع کیے۔

حزب اللہ کا کہنا تھا کہ یہ حملے جنگ کے پہلے دن 28 فروری کو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے جواب میں کیے گئے، اور ساتھ ہی اسرائیل کی جانب سے نومبر 2024 کی جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں کے ردعمل میں بھی تھے۔

یہ جنگ بندی اکتوبر 2023 میں غزہ پر اسرائیلی جنگ کے بعد ایک سال سے زائد عرصے تک جاری سرحدی جھڑپوں کے بعد طے پائی تھی۔

لبنانی حکام کے مطابق 2 مارچ سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 1500 سے زائد افراد جاں بحق اور 12 لاکھ سے زیادہ بے گھر ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں زمینی کارروائی بھی شروع کر رکھی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ ایک “بفر زون” قائم کرنے کے لیے مزید علاقے پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔

نیتن یاہو کے اعلان پر حزب اللہ یا لبنانی حکومت کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

بیروت سے رپورٹنگ کرتے ہوئے الجزیرہ کی نمائندہ زینہ خضر کے مطابق حزب اللہ کی اس جنگ میں شمولیت نے تنازع کو مزید وسعت دی اور اسرائیل کو کئی محاذوں پر الجھا دیا ہے۔

ان کے مطابق حزب اللہ کا خیال ہے کہ اگر وہ ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات میں شامل ہوتی ہے تو اس کی سیاسی حیثیت مضبوط ہوگی، کیونکہ وہ لبنانی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہے کہ وہ اسرائیل کو 2024 کی جنگ بندی پر عملدرآمد پر مجبور نہیں کر سکی۔

زینہ خضر نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل نہ صرف تقریباً روزانہ حملے کر رہا ہے بلکہ اس نے جنوبی لبنان سے انخلا، قیدیوں کی رہائی اور بے گھر افراد کی واپسی کی اجازت دینے سے بھی انکار کیا ہے۔

اب اہم سوال یہ ہے کہ آیا ایران اور امریکہ کے درمیان آئندہ مذاکرات میں اسرائیل اور حزب اللہ کے محاذ کو بھی زیر بحث لایا جائے گا یا نہیں۔

لبنانی وزیرِ اعظم نواف سلام کے مطابق ایران ہی جنوبی لبنان میں حزب اللہ کی فوجی کارروائیوں کی قیادت کر رہا ہے، اور اسی لیے آئندہ دو ہفتوں کے مذاکرات لبنان کے لیے انتہائی اہم ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ “بالآخر اسرائیل کو سیکیورٹی ضمانتیں درکار ہیں، اور یہ وہ چیز ہے جو لبنانی حکومت یا ریاست فراہم نہیں کر سکتی۔”

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں