انڈیا میں امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف نوجوانوں کی احتجاجی تحریک کی قیادت کرنے والی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے اپنے مستقبل کے لائحہ عمل پر غور کے لیے مہاراشٹر میں دو روزہ اہم اجلاس شروع کر دیا ہے، جہاں تنظیم کی آئندہ حکمت عملی اور عوامی رابطہ مہم پر تفصیلی مشاورت کی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اجلاس میں سی جے پی کے بانی ابھیجیت ڈپکے، چیف ترجمان سوراو داس، ترجمان ویشناوی گور سمیت تنظیم کی مرکزی قیادت شریک ہے۔ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حالیہ احتجاجی تحریک کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں تنظیم کو نچلی سطح تک منظم کرنے اور مستقبل کا جامع روڈ میپ تیار کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
سی جے پی نے گزشتہ ماہ مبینہ نیٹ (NEET) پیپر لیک اسکینڈل کے خلاف ہونے والے ملک گیر طلبہ احتجاج میں نمایاں کردار ادا کیا تھا۔ اس تحریک کے بعد انڈین وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کو تنظیم اپنی بڑی کامیابی قرار دیتی ہے۔
اجلاس سے قبل گفتگو کرتے ہوئے بانی ابھیجیت ڈپکے نے کہا کہ تنظیم نوجوان نسل، خصوصاً جنریشن زی (Gen Z) سے مشاورت کرے گی تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ وہ کن عوامی مسائل کو تحریک کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فی الحال سی جے پی کو سیاسی جماعت میں تبدیل کرنے یا انتخابات میں حصہ لینے کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں۔
چیف ترجمان سوراو داس نے کہا کہ احتجاج کی کامیابی کے بعد سب سے اہم سوال یہی تھا کہ اب تحریک کس سمت آگے بڑھے گی۔ ان کے مطابق اجلاس میں اسی حوالے سے آئندہ حکمت عملی کو حتمی شکل دی جا رہی ہے، جس کا باقاعدہ اعلان 6 اگست کو کیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ سی جے پی خود کو کسی نئی سیاسی جماعت کے متبادل کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہتی بلکہ اس کا مقصد عوام، خصوصاً نوجوانوں، میں شعور بیدار کرنا اور مقامی سطح پر مضبوط تنظیمی ڈھانچہ قائم کرنا ہے تاکہ مختلف اضلاع میں لوگوں کے مسائل کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا جا سکے۔
ترجمان ویشناوی گور نے حکومت کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کے مطالبات کو سننے کے بجائے ان پر فیصلے مسلط کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر حکومت نے مکالمے کا راستہ اختیار نہ کیا تو نوجوانوں کی یہ تحریک مزید شدت کے ساتھ جاری رہے گی۔
تنظیم کی رہنما رتنا سنگھ کا کہنا تھا کہ احتجاج کا اثر صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں رہا بلکہ دیہی علاقوں میں بھی اس کی بازگشت سنائی دی، جہاں ہزاروں نوجوان اس تحریک سے متاثر ہوئے۔
سی جے پی کا کہنا ہے کہ وہ اب امتحانی اصلاحات سے آگے بڑھتے ہوئے نوجوانوں، روزگار، تعلیم اور دیگر عوامی مسائل پر مبنی ایک وسیع عوامی تحریک کی بنیاد رکھنا چاہتی ہے، تاہم تنظیم نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ اس وقت اس کا انتخابی سیاست میں قدم رکھنے یا سیاسی جماعت بننے کا کوئی ارادہ نہیں۔