امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ممکن ہے ایران نے دو ہفتوں کی جنگ بندی کے دوران اپنی عسکری صلاحیت میں “معمولی” اضافہ کیا ہو، تاہم امریکی افواج اسے ایک ہی دن میں ختم کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی بحریہ، فضائیہ اور دفاعی نظام بڑی حد تک کمزور ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق امریکا جلد بازی کے بجائے ایک “مستحکم اور بہتر معاہدہ” چاہتا ہے اور اسی مقصد کے لیے انتظار کرنے کو تیار ہے۔
ٹرمپ نے ایک بار پھر مؤقف دہرایا کہ امریکا ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دے گا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے خلاف جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا کوئی ارادہ نہیں ہے کیونکہ روایتی عسکری صلاحیت ہی کافی ہے۔
امریکی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کے اندر قیادت کے حوالے سے شدید اختلافات اور اقتدار کی کشمکش جاری ہے، جس کے باعث ملک میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق “یہ واضح نہیں کہ اس وقت ایران کو کون چلا رہا ہے کیونکہ نئی قیادت خوف کے باعث سامنے نہیں آ رہی۔”
ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا آبنائے ہرمز پر مؤثر کنٹرول رکھتا ہے اور اسے کسی بھی معاہدے یا دباؤ کے ذریعے کھولا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق ایرانی بندرگاہوں پر پابندیوں کے باعث تجارت متاثر ہوئی ہے اور تیل کی پیداوار میں بھی شدید خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔
انہوں نے امریکی بحریہ کو یہ حکم دینے کا بھی ذکر کیا کہ اگر کوئی ایرانی کشتی آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کرے تو اسے فوری طور پر نشانہ بنایا جائے۔ سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ “کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے، راستہ صرف اسی وقت کھلے گا جب مستقل امن معاہدہ ہوگا۔”
دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران میں کسی قسم کی اندرونی تقسیم نہیں، تمام شہری ایک قوم ہیں۔
سپریم لیڈر کے قریبی حلقوں نے بھی قومی اتحاد کو نقصان پہنچانے والی افواہوں اور بیانیوں سے خبردار کیا ہے۔
ادھر تہران نے امریکی دباؤ اور بحری ناکہ بندی کے باوجود آبنائے ہرمز کھولنے سے انکار کر دیا ہے اور واشنگٹن پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔ اسی دوران اسلام آباد میں جاری امن مذاکرات تعطل کا شکار ہیں، جس کے باعث عالمی توانائی اور تجارت کے نظام پر منفی اثرات بڑھتے جا رہے ہیں۔