ٹرمپ کا ایران کو سخت پیغام، معاہدہ نہ ہوا تو تباہ کن کارروائی ہوگی

فہرستِ مضامین

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران اگر جنگ کے خاتمے کے لیے مجوزہ معاہدہ قبول نہیں کرتا تو اسے پہلے سے کہیں زیادہ شدید امریکی حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر جاری بیان میں کہا کہ اگر ایران پہلے سے طے شدہ شرائط مان لیتا ہے تو امریکا اپنی فوجی مہم “ایپک فیوری” روک سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ انکار کی صورت میں بڑے پیمانے پر بمباری دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بندی اور جوہری مذاکرات کے نئے فریم ورک پر پیش رفت کی اطلاعات گردش کر رہی ہیں۔

امریکی میڈیا ادارے “ایکسیوس” نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں ممالک ایک مختصر مفاہمتی معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، جس کا مقصد جاری کشیدگی کا خاتمہ اور آئندہ مذاکرات کی بنیاد رکھنا ہے۔

ادھر صدر ٹرمپ نے منگل کی شب اعلان کیا کہ امریکا نے آبنائے ہرمز میں پھنسے تجارتی جہازوں کی مدد کے لیے جاری فوجی کارروائی عارضی طور پر روک دی ہے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ ممکنہ سفارتی پیش رفت کو موقع دینے کے لیے کیا گیا۔

ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی جانب سے اہم بحری راستے میں رکاوٹوں اور امریکی ردعمل کے باعث عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا ہوئی، جبکہ تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ “پراجیکٹ فریڈم” کو وقتی طور پر روکا گیا ہے، تاہم ایرانی بندرگاہوں پر امریکی دباؤ اور ناکہ بندی برقرار رہے گی۔

امریکی صدر کے مطابق پاکستان سمیت چند دیگر ممالک نے ثالثی کی کوششوں میں کردار ادا کیا، جس کے بعد مذاکراتی ماحول بہتر بنانے کے لیے فوجی آپریشن میں وقفہ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ “مکمل اور حتمی معاہدے” کی جانب اہم پیش رفت ہوئی ہے اور اب دیکھا جا رہا ہے کہ آیا دونوں فریق کسی باضابطہ معاہدے پر دستخط تک پہنچ پاتے ہیں یا نہیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں