امریکہ کی نئی تجارتی پابندیوں پر چین نے سخت ردعمل دیتے ہوئے متعدد جوابی اقدامات کا اعلان کر دیا ہے، جن میں ڈرونز اور ان سے متعلق حساس ٹیکنالوجی کی امریکہ کو برآمد پر سخت پابندیاں اور چھ امریکی کمپنیوں کو بلیک لسٹ کرنا شامل ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بیجنگ کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن نے چین سمیت 60 ممالک پر نئے تجارتی ٹیرف نافذ کیے ہیں، جنہیں دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی کی ایک نئی کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔
چینی وزارت تجارت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکی پابندیاں چین کے قانونی تجارتی مفادات کو نقصان پہنچا رہی ہیں، اسی لیے بیجنگ نے اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری جوابی اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔
چین نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ کو ڈرونز، ان کے اہم پرزہ جات اور متعلقہ جدید ٹیکنالوجی کی برآمد پر مزید سخت نگرانی اور کنٹرول نافذ کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی چینی حکام نے امریکی سرٹیفکیشن اور کمپلائنس ٹیسٹنگ سے وابستہ بعض اداروں کے خلاف بھی کارروائی شروع کر دی ہے۔
بیجنگ نے چھ امریکی کمپنیوں کو بلیک لسٹ میں شامل کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وہ چین کے خلاف امریکی پابندیوں کے نفاذ میں معاونت کر رہی تھیں۔ ان کمپنیوں میں اپلائیڈ ڈی این اے سائنسز اور سٹریٹم ریزروائر بھی شامل ہیں۔ چین کا کہنا ہے کہ ان اداروں کی سرگرمیاں سنگین نوعیت کی تھیں، اس لیے ان کے خلاف کارروائی ناگزیر تھی۔
اس کے علاوہ چین نے امریکی دفتری پرنٹرز اور فوٹو کاپی مشینوں کی درآمد کے حوالے سے قومی سلامتی کی بنیاد پر تحقیقات کا بھی آغاز کر دیا ہے، جبکہ بعض فیکٹری انسپیکشنز عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہیں۔
دوسری جانب امریکہ نے حالیہ دنوں چین پر ایغور مسلمانوں سے جبری مشقت لینے کے الزامات کے تحت 12.5 فیصد اضافی ٹیرف عائد کیا تھا اور 43 چینی کمپنیوں کو ایغور فورسڈ لیبر پریونشن ایکٹ کے تحت اینٹٹی لسٹ میں شامل کر دیا تھا۔ چین ان الزامات کو مسلسل مسترد کرتا آیا ہے۔
چینی نائب وزیراعظم اور اعلیٰ تجارتی مذاکرات کار ہی لیفینگ نے امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر سے ٹیلیفونک گفتگو میں واشنگٹن کے حالیہ اقدامات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسی پالیسیاں دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات کو مزید نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور صدر شی جن پنگ کی ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی میں وقتی کمی آئی تھی، تاہم تازہ امریکی ٹیرف اور چینی جوابی اقدامات نے ایک بار پھر دونوں بڑی معاشی طاقتوں کو تجارتی محاذ پر آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔