ترتیب: اِشفاق احمد
21 گھنٹے کی میراتھن بات چیت کے باوجود کوئی معاہدہ نہ ہو سکا — جنگ بندی خطرے میں
خطے کے حکام اور ذرائع کے مطابق، پاکستان کی ثالثی میں اسلام آباد میں ہونے والے تاریخی اور اعلیٰ سطح کے مذاکرات ناکامی کا شکار ہو گئے ہیں۔ یہ 1979 کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان سب سے اہم آمنے سامنے کی بات چیت تھی، لیکن سخت موقف اور عدم اعتماد کی وجہ سے کوئی حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسلام آباد سے روانگی سے قبل صحافیوں سے کہا:
بدقسمتی کی بات ہے کہ ہم کوئی معاہدہ نہیں کر سکے۔ ایران نے ہماری شرائط قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ ایران کے لیے بری خبر ہے۔ ہم نے اپنی حتمی اور بہترین پیشکش دے دی ہے۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے الزام لگایا کہ امریکا نے “غیر معقول اور زیادہ سے زیادہ مطالبات” کیے، جن میں جوہری پروگرام کی مکمل بندش، افزودہ یورینیم کی واپسی اور آبنائے ہرمز کی بغیر کسی فیس کے مکمل کھولی جانا شامل تھا۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے کہا کہ ایک ہی نشست میں مکمل معاہدے کی توقع نہیں کی جا سکتی تھی۔
کیا ہوا مذاکرات میں؟
دو ہفتوں کی جنگ بندی منگل کو اعلان کی گئی تھی، جس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنا تھا جنگ 28 فروری کے امریکا-اسرائیل حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی۔
مذاکرات میں آبنائے ہرمز عالمی تیل کی 20% سپلائی کی گزرگاہ، ایران کا جوہری پروگرام، منجمد ایرانی اثاثوں تقریباً 27 ارب ڈالر) کی رہائی، اور علاقائی ملیشیا جیسے حزب اللہ کی فنڈنگ جیسے اہم مسائل پر بات ہوئی۔
– ایران نے محدود افزودگی جاری رکھنے یا ذخائر کم کرنے کی تجویز دی، لیکن کوئی مشترکہ حل نہ نکل سکا۔
– امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے دوران زور دے کر کہا کہ “ہم نے ایرانی کمانڈروں کو نشانہ بنا کر اور ان کے فوجی ڈھانچے کو تباہ کر کے فتح حاصل کر لی ہے۔ معاہدہ ہو یا نہ ہو، ہم جیت چکے ہیں۔”
مذاکرات کے بعد امریکی فوج نے اعلان کیا کہ وہ ایرانی بندرگاہوں کی طرف جانے والے جہازوں کو بلاک کرنے کا آغاز کر دے گی، جبکہ ایران نے خبردار کیا کہ اگر امریکی جنگی جہاز آبنائے ہرمز میں داخل ہوئے تو شدید جواب دیا جائے گا۔
پاکستان کا کردار
پاکستان نے فعال ثالثی کا کردار ادا کیا۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ اسلام آباد آئندہ دنوں میں بھی دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور مذاکرات کی سہولت کاری جاری رکھے گا۔ علاقائی ممالک بشمول سعودی عرب، ترکی، مصر اور چین بھی اس عمل میں شامل تھے۔
برطانیہ اور عمان نے بھی جنگ بندی کو برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔
اب کیا ہوگا؟
دو ہفتوں کی جنگ بندی 22 اپریل تک ہے، لیکن ناکام مذاکرات کے بعد اس کی بقا مشکوک ہو گئی ہے۔
– دونوں فریق ایک دوسرے پر الزام تراشی کر رہے ہیں، مگر کچھ ذرائع کا کہنا ہے کہ دروازہ اب بھی کھلاہے اور آئندہ چند دنوں میں نئے دور کی بات چیت ممکن ہے۔
– عالمی مارکیٹس میں تیل کی قیمتیں بڑھنے کا اندیشہ ہے کیونکہ آبنائے ہرمز کی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔
یہ ناکامی مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، لیکن پاکستان سمیت کئی ممالک اب بھی سفارتی کوششیں تیز کرنے پر ہیں۔
صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اگلی پیش رفت پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔