کیا ایران جنگ عالمی توانائی نظام کو بدل دے گی؟

فہرستِ مضامین

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری جنگ نے عالمی توانائی کے نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے، اور دنیا بھر کی حکومتیں اب اپنی توانائی کی سپلائی اور اس کے ذرائع پر دوبارہ غور کر رہی ہیں۔

ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں توانائی کا عالمی نقشہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ تیل کی منڈیاں غیر مستحکم ہو چکی ہیں، جبکہ اوپیک کی گرفت بھی کمزور پڑتی نظر آ رہی ہے۔

اسی دوران امریکا کی توانائی برآمدات تاریخی سطح پر پہنچ گئی ہیں، جس سے عالمی منڈی میں اس کا کردار مزید مضبوط ہو گیا ہے۔ دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے اوپیک سے علیحدگی اختیار کر کے ایک اہم تبدیلی کی بنیاد رکھ دی ہے۔

توانائی کے نظام میں بڑی تبدیلیاں

آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے، جس نے توانائی کے روایتی نظام کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔

توانائی ماہرین کے مطابق اب دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں تیل اور گیس جیسے روایتی ذرائع زیادہ مہنگے اور غیر مستحکم ہو رہے ہیں، جبکہ متبادل توانائی کی طرف رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

قابلِ تجدید توانائی کا بڑھتا کردار

ماہرین کا کہنا ہے کہ سورج اور ہوا سے حاصل ہونے والی توانائی اب زیادہ پرکشش بنتی جا رہی ہے، کیونکہ یہ جغرافیائی تنازعات اور سیاسی بحرانوں سے نسبتاً محفوظ ہے۔

سولر پینلز اور ونڈ ٹربائنز ایک بار نصب ہونے کے بعد عالمی سیاسی حالات سے متاثر نہیں ہوتیں، تاہم یہ قدرتی موسم کے اثرات سے ضرور متاثر ہوتی ہیں۔

چین کا کردار اور عالمی رجحان

توانائی کے نئے نظام میں چین بھی قابلِ تجدید توانائی کی طرف عالمی تبدیلی کو تیزی سے آگے بڑھا رہا ہے، جس سے تیل پر انحصار کم کرنے کی عالمی کوششوں کو تقویت مل رہی ہے۔

مستقبل کا منظرنامہ

ماہرین کے مطابق اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی جاری رہی تو عالمی توانائی نظام تیزی سے تبدیل ہو سکتا ہے، جہاں روایتی تیل پر انحصار کم اور قابلِ تجدید توانائی کا کردار زیادہ ہو جائے گا۔

یوں موجودہ جنگ صرف سیاسی یا عسکری نہیں بلکہ عالمی توانائی کے مستقبل کو بھی نئے رخ پر لے جا رہی ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں