کیا ٹرمپ کی عمان کو دی گئی دھمکی مشرقِ وسطیٰ میں نئی جنگ کا پیش خیمہ ہے؟

فہرستِ مضامین

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے معاملے پر اپنے دیرینہ اتحادی عمان کو سخت دھمکی دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر مسقط نے اس اہم بحری گزرگاہ کے کنٹرول کے تنازع میں حصہ لیا تو امریکہ فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔

واشنگٹن میں کابینہ اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر کسی ایک ملک کو کنٹرول حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے عمان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ: “یہ بین الاقوامی بحری راستہ ہے، عمان کو دوسروں کی طرح رویہ اختیار کرنا ہوگا، ورنہ ہمیں سخت اقدام کرنا پڑے گا۔”

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب اطلاعات گردش کر رہی تھیں کہ عمان اور ایران آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی نگرانی سے متعلق کسی مشترکہ انتظام پر بات چیت کر رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تجارتی بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل تجارت کا 20 فیصد سے زائد حصہ گزرتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران نے فروری میں امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوئے وہاں سے گزرنے والے بعض بحری جہازوں سے بھاری فیس وصول کرنا شروع کر دی تھی۔ بین الاقوامی قوانین کے تحت قدرتی بحری گزرگاہوں پر ٹول ٹیکس عائد نہیں کیا جا سکتا، تاہم متعلقہ ممالک جہازوں کو سروسز فراہم کرنے کے عوض فیس لے سکتے ہیں۔

ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا کہ تہران اور واشنگٹن ایک ایسے مفاہمتی معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں جس کے تحت ایران اور عمان مشترکہ طور پر آبنائے ہرمز کے انتظامات سنبھال سکتے ہیں، تاہم امریکی انتظامیہ نے اس خبر کو “مکمل من گھڑت” قرار دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ کی سخت دھمکی دراصل اس خدشے کی عکاسی کرتی ہے کہ امریکہ ایران کو آبنائے ہرمز پر مستقل اثر و رسوخ حاصل کرنے سے روکنا چاہتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے امور کے ماہر محناد سلوم کے مطابق واشنگٹن یہ نہیں چاہتا کہ ایران کسی عرب اتحادی کی مدد سے اس اہم بحری راستے پر قانونی یا انتظامی کنٹرول حاصل کرے۔

دوسری جانب ایران کے ترجمان اسماعیل بقائی نے عمان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے امریکی دھمکیوں کی مذمت کی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور تجزیہ کاروں نے بھی ٹرمپ کے بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔

ادھر امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی مذاکرات بھی تعطل کا شکار دکھائی دے رہے ہیں۔ اپریل میں عارضی جنگ بندی اور اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ ایران اب بھی آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر سخت نگرانی کر رہا ہے جبکہ امریکی افواج ایرانی بندرگاہوں کے گرد اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق حالیہ دنوں میں چند بحری جہازوں نے ریڈار بند کر کے آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کی جس پر ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے وارننگ فائر کیے۔ اسی دوران ایران نے امریکی فضائی حملوں کے جواب میں خطے میں امریکی اڈوں کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

عمان اس پورے تنازع میں اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی جنگ سے قبل امریکہ اور ایران کے درمیان ایٹمی مذاکرات میں ثالثی کر رہے تھے اور دونوں فریقوں کے درمیان رابطے بحال رکھنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عمان اپنی جغرافیائی، سفارتی اور تزویراتی اہمیت کے باعث اس بحران میں مرکزی حیثیت اختیار کر چکا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول کی کشمکش اب مشرقِ وسطیٰ کی بڑی جغرافیائی سیاسی جنگ میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں