گڈز ٹرانسپورٹرز کی ملک گیر ہڑتال شروع، غیرمعینہ مدت تک پہیے جام رکھنے کا اعلان

فہرستِ مضامین

ملک بھر میں گڈز ٹرانسپورٹ کا پہیہ آج 8 اگست سے غیرمعینہ مدت کے لیے رک گیا۔ آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد نے حکومت کی جانب سے مطالبات منظور نہ کیے جانے پر ہڑتال شروع کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر ملک شہزاد اعوان نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے غیرمعینہ مدت کی ہڑتال کی تصدیق کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے ٹرانسپورٹ اتحاد کو پیر کے روز مذاکرات کے لیے طلب کیا ہے۔

ملک شہزاد اعوان کے مطابق حکومت سے مذاکرات کے لیے ٹرانسپورٹرز کی ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، تاہم حکومت کے ساتھ اجلاس اور آئندہ کے لائحہ عمل کے اعلان تک ہڑتال جاری رہے گی۔

انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل کمشنر آفس میں حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے، تاہم یہ بات چیت کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی۔

کن مطالبات پر ہڑتال؟

ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ احتجاج کی بنیادی وجوہات میں پیٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ کی بنیاد پر تعین اور ٹرانسپورٹ سیکٹر پر 7 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس کا نفاذ شامل ہیں۔

اتحاد کے مطابق موجودہ معاشی حالات میں ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ اور نئے ٹیکسز نے گڈز ٹرانسپورٹ کے شعبے پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔

ٹرانسپورٹرز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے تحفظات دور کیے جائیں اور ٹرانسپورٹ سیکٹر پر عائد مالی بوجھ میں کمی کی جائے۔

اب تمام نظریں پیر کو حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان ہونے والے مذاکرات پر ہیں۔ اگر بات چیت میں پیش رفت نہ ہوئی تو گڈز ٹرانسپورٹ کی غیرمعینہ ہڑتال مزید جاری رہنے کا امکان ہے، جس سے ملک میں اشیائے ضروریہ اور تجارتی سامان کی ترسیل متاثر ہوسکتی ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں