یورینیم، ہرمز اور سخت شرائط: امریکہ ایران ڈیل پھر الجھ گئی

فہرستِ مضامین

امریکی صدر Donald Trump نے ایران کے ساتھ ممکنہ جوہری معاہدے پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ کسی بھی ڈیل میں واشنگٹن کی بنیادی شرائط پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، جن میں اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم کی امریکہ کو منتقلی، ایران کے جوہری پروگرام پر سخت پابندیاں اور آبنائے ہرمز کی بحالی شامل ہیں۔

امریکی ویب سائٹ Axios کے مطابق وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ حکام اور باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ جمعے کے روز White House Situation Room میں ہونے والے ایک اہم اجلاس کے دوران ٹرمپ نے ایران اور امریکی مذاکرات کاروں کے درمیان طے پانے والے ابتدائی فریم ورک میں متعدد تبدیلیوں کا حکم دیا۔

ذرائع کے مطابق ان ترامیم کے بعد مذاکرات کا ایک نیا اور زیادہ پیچیدہ مرحلہ شروع ہو گیا ہے، جو آئندہ کئی دنوں تک جاری رہ سکتا ہے۔ ٹرمپ نے اپنی ٹیم کو ہدایت دی ہے کہ مجوزہ معاہدے کی شقوں کو مزید سخت اور واضح بنایا جائے، خاص طور پر یورینیم کے ذخائر کی منتقلی کے طریقہ کار اور اس کے ٹائم فریم کے حوالے سے۔

ایک امریکی عہدیدار کے مطابق اصل اختلاف اس بات پر ہے کہ ایران کے پاس موجود اعلیٰ درجے کی افزودہ یورینیم کب اور کس طریقے سے امریکہ کے حوالے کی جائے گی۔ اسی طرح بعض شقوں میں Strait of Hormuz سے متعلق زبان پر بھی نظرِ ثانی کی جا رہی ہے، جہاں بحری گزرگاہ کو دوبارہ مکمل طور پر کھولنے کی تجویز شامل ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی فریق کو توقع ہے کہ ایران کی جانب سے جواب آنے میں تقریباً تین دن لگ سکتے ہیں، تاہم ایک عہدیدار نے غیر رسمی انداز میں کہا کہ “وہ براہِ راست رابطے میں محدود ہیں، اس لیے ردعمل میں وقت لگتا ہے۔”

امریکی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ اس وقت تک کسی معاہدے کو حتمی شکل نہیں دیں گے جب تک تمام شرائط واضح طور پر امریکہ کے مفاد میں نہ ہوں اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے مکمل طور پر روکا نہ جا سکے۔

رپورٹس کے مطابق مجوزہ ڈرافٹ میں ایران نے جوہری ہتھیار نہ بنانے کا وعدہ کیا ہے، تاہم اس کے بدلے میں دی جانے والی مراعات اور عملی اقدامات کی تفصیل ابھی واضح نہیں۔ ابتدائی منصوبے کے تحت 60 روزہ مذاکراتی فریم ورک پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جس میں افزودہ یورینیم کے ذخائر کم کرنے اور افزودگی محدود کرنے جیسے اقدامات شامل ہوں گے۔

دوسری جانب ایران Iran کی جانب سے بعض دعوؤں میں کہا گیا ہے کہ بیرون ملک منجمد اثاثے واپس مل سکتے ہیں، تاہم وائٹ ہاؤس نے ان دعوؤں کی تردید کر دی ہے۔

یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان اور قطر کی ثالثی میں کئی ہفتوں سے ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں، جبکہ خطے میں کشیدگی اور بحری راستوں کی سکیورٹی صورتحال بھی مسلسل زیرِ نگرانی ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں