آسٹریلیا کی فوج کی تاریخ میں ایک سنسنی خیز اور تاریخی لمحہ، 125 سال بعد پہلی بار ایک خاتون فوج کی سربراہی سنبھالنے والی ہیں!
وزیر دفاع رچرڈ مارلس نے پیر کو اعلان کیا کہ لیفٹیننٹ جنرل سوزن کوائل جولائی سے آسٹریلین آرمی کی نئی چیف بنیں گی۔ وہ آسٹریلیا کی تاریخ میں پہلی خاتون ہوں گی جو فوج، نیوی یا ایئر فورس میں سے کسی ایک سروس کی مکمل کمانڈ کریں گی۔
مارلس نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا:
“سوزن کی یہ کامیابی اس بات کی علامت ہے کہ وہ آسٹریلوی تاریخ میں پہلی خاتون ہیں جو کسی سروس کی قیادت کریں گی۔ یہ ایک گہرا تاریخی لمحہ ہے۔ جیسا کہ سوزن نے مجھ سے کہا —’آپ وہ نہیں بن سکتے جو آپ دیکھ نہیں سکتے’۔”
سوزن کوائل نے 1987 میں آرمی ریزرو کے طور پر شمولیت اختیار کی تھی۔ ان کے 30 سال سے زائد کیریئر میں افغانستان، مشرق وسطیٰ، سولومن آئی لینڈز اور دیگر آپریشنز میں خدمات شامل ہیں۔ انہوں نے سگنلز کور میں کام کیا، انفارمیشن وارفیئر کی قیادت کی، اور حال ہی میں جوائنٹ کیپیبلٹیز کی چیف کے طور پر سائبر، اسپیس اور جدید جنگی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا:
“میرے تجربات کی یہ وسعت مجھے کمانڈ کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد دیتی ہے۔”
دفاعی قیادت میں بڑی تبدیلیاں
اس اعلان کے ساتھ آسٹریلین ڈیفنس فورس میں بڑی قیادت کی تبدیلیاں ہو رہی ہیں۔
وزیر اعظم انتھونی البانیز نے نیوی چیف وائس ایڈمرل مارک ہیمنڈ کو آسٹریلین ڈیفنس فورس کا نیا چیف مقرر کر دیا ہے۔ وہ جولائی میں موجودہ چیف ایڈمرل ڈیوڈ جانسٹن کی جگہ لیں گے۔
وائس ایڈمرل ہیمنڈ نے نیوی میں 40 سال گزارے ہیں، جن میں سب میرین کمانڈر کے طور پر خدمات بھی شامل ہیں۔ وہ AUKUS منصوبے (نیوکلیئر پاورڈ سب میرینز) کے مرکزی کردار میں رہے ہیں۔
سوزن کوائل کا سفر: ایک متاثر کن کہانی
سوزن کوائل شمالی نیو ساؤتھ ویلز کے کیوگلے میں پیدا ہوئیں۔ ان کا بچپن ڈیم سائٹس پر گزرا — والد واٹر ریسورسز میں کام کرتے تھے، اس لیے خاندان ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتا رہتا تھا۔ وہ کہتی ہیں:
یہ ایک شاندار بچپن تھا۔ بہت سے بہن بھائی تھے، ہر جگہ بچے ہی بچے۔
فوج میں شمولیت کے بعد انہوں نے 36 سال میں *28 بار جگہ تبدیل کی اکثر شوہر مارک (جو خود بھی فوجی ہیں) اور تین بچوں کے ساتھ۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم کے لیے انہوں نے استحکام کی کوشش کی، کبھی کانبیرا میں رہے تو کبھی بیٹا بورڈنگ سکول گیا۔
وہ آسٹریلیا کی ابتدائی اسپیس کمان کی بھی سربراہی کر چکی ہیں اور سیٹلائٹس، سائبر وار اور جدید جنگی ٹیکنالوجی میں ماہر ہیں۔
حکومت کا بیان ہے کہ سوزن کی یہ تقرری نہ صرف موجودہ فوجی خواتین بلکہ مستقبل میں فوج جوائن کرنے والی لڑکیوں کے لیے ایک بہت بڑا پیغام ہے۔ یہ دکھاتا ہے کہ اعلیٰ عہدوں پر خواتین کو دیکھنا دوسروں کو بھی آگے بڑھنے کی ترغیب دیتا ہے۔
آسٹریلیا فی الحال فوج کو جدید بنانے کے بڑے مرحلے سے گزر رہا ہے — طویل فاصلے کے ہتھیار، ڈرونز، سائبر اور اسپیس کی صلاحیتوں کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔ سوزن کوائل کی قیادت اس تبدیلی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
یہ تقرری نہ صرف آسٹریلیا بلکہ دنیا بھر میں خواتین کے لیے ایک تحریک ہے۔ جب سوزن فوج میں شامل ہوئیں تھیں تو سب سے اعلیٰ خاتون افسر صرف کرنل رینک تک تھی۔ آج وہ خود فوج کی سربراہ بن رہی ہیں۔ ایک متاثر کن، طاقتور اور امید بھرا لمحہ!