اگر اگلے چند گھنٹے پاکستان کی مرضی کے مطابق گزرے تو آج شام یا کل ہفتہ کے روز اسلام آباد میں ایک ایسا منظر دیکھنے کو مل سکتا ہے جو 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد پہلی بار ہوگا ۔امریکہ اور ایران کے درمیان اعلیٰ ترین سطح پر براہ راست مذاکرات
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سربراہی میں وفد اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکرمحمد باقر قالیباف کی قیادت میں ایرانی وفد آمنے سامنے ہوں گے۔
یہ ملاقات 2015 کے جوہری معاہدے (JCPOA) سے بھی بڑی ہوگی، کیونکہ اس وقت تو صرف وزیر خارجہ سطح کی بات چیت ہوئی تھی۔ 1979 کے بعد سے آج تک کسی امریکی صدر یا نائب صدر نے ایرانی قیادت سے براہ راست ملاقات نہیں کی۔ سب سے قریبی رابطہ 2013 میں براک اوباما کا حسن روحانی کو فون تھا۔
اس کے بعد سے رابطہ صرف بالواسطہ رہا — سوئٹزرلینڈ، عمان یا کوئی تیسرا ملک۔
2025 میں امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان عمان کی میزبانی میں کئی بالواسطہ دور ہوئے، مگر صدارتی سطح تک بات نہ پہنچی۔
پھر جون 2025 میں اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملوں نے سب کچھ تبدیل کر دیا۔
اس کے بعد 28 فروری 2026 کو نئی جنگ شروع ہونے سے پہلے بھی بالواسطہ جوہری بات چیت چل رہی تھی، لیکن 2 مارچ کو تہران پر دوبارہ حملے ہو گئے۔
اعتماد کا زخم گہرا ہے
ایرانی قیادت بار بار کہہ چکی ہے کہ وہ امریکہ پر بھروسہ نہیں کرتے ایک ہی سوراخ سے دو بار ڈسے جا چکے ہیں۔
1979-81 کا یرغمالی بحران، جوہری پروگرام، علاقائی ملیشیاوں کی حمایت اور اب تازہ ترین 40 روزہ جنگ جس میں ایران کو بھاری جانی و مالی نقصان ہوا اور سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای سمیت اعلیٰ قیادت بھی شہید ہوئی نے تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
پھر بھی ایران کا دعویٰ ہے کہ وہ کامیاب نکلا ہے اور صرف پاکستان سمیت علاقائی ممالک کی درخواست پر مذاکرات کی میز پر آیا ہے۔
اب تمام نظریں اسلام آباد پر ہیں۔
کیا جے ڈی وینس محمد باقر قالیباف سے مصافحہ کریں گے؟
کیا 47 سالہ دشمنی کا ایک باب ختم ہونے جا رہا ہے؟
یا یہ صرف ایک اور کوشش ہوگی جو بالآخر ناکام ہو جائے گی؟
تاریخ آج رات یا کل لکھی جائے گی۔
پاکستان اس بار ثالث بننے کا قیمتی موقع گنوا رہا ہے یا تاریخ کا حصہ بننے جا رہا ہے؟ اسکا فیصلہ کل تک ہوجائے گا۔