ضیاء لنجار کے گھر کو آگ لگانے کا کیس، مرتضیٰ جتوئی عدالت میں پیش

فہرستِ مضامین

نوشہرو فیروز (ڈسٹرکٹ رپورٹر)  مورو میں لنجار ہاؤس کو آگ لگانے کے واقعے کے مقدمے میں نامزد نیشنل پیپلز پارٹی (این پی پی) کے سربراہ مرتضیٰ جتوئی اور ان کے بھائی مسرور جتوئی دہشتگردی کی عدالت نوشہروفیروز میں پیش ہوئے۔

فریقین کے وکلاء نے دلائل دیے، جس کے بعد سماعت 11 اگست تک ملتوی کر دی گئی۔

مرتضیٰ جتوئی کی عدالت میں پیشی کے موقع پر نوشہروفیروز کے ساتھ ساتھ نوابشاہ اور سانگھڑ کے ایس ایس پیز کی قیادت میں پولیس کے دستے عدالت کے باہر تعینات کیے گئے۔

یہ چاہتے ہیں کہ سندھ کے تمام لوگ گونگے ہو جائیں

عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مرتضیٰ جتوئی نے کہا کہ حکمرانوں کو ہمارا میڈیا سے بات کرنا بھی پسند نہیں، وہ چاہتے ہیں کہ سندھ کے تمام لوگ خاموش ہو جائیں اور کوئی بھی کچھ نہ بولے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں پہلے بھی گرفتاری دے چکا ہوں اور اگر عدالت دوبارہ گرفتاری کا حکم دیتی ہے تو ہم خود کو پیش کر دیں گے۔ پیپلزپارٹی کے دوستوں سے کہوں گا کہ ہمارے لیے پولیس کے اتنے اخراجات نہ کریں۔

مرتضیٰ جتوئی نے کہا کہ ہم کہیں بھاگنے والے نہیں، اگر بھاگنا ہوتا تو کب کا بھاگ چکے ہوتے۔ ججز کو معلوم ہے کہ کون سے کیسز سچے ہیں اور کون سے جھوٹے۔

جھوٹی مقدمات ہیں

انہوں نے کہا کہ اس وقت میں 13 مقدمات کا سامنا کر رہا ہوں، اور یہ سب جھوٹے مقدمات ہیں۔ لنجار ہاؤس کو آگ لگائے جانے والے دن میں عدالت میں حاضری پر تھا۔ ہم نے ہمیشہ عدم تشدد پر مبنی سیاست کی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ریحام خان نے کس بنیاد پر پارٹی بنائی، مجھے اس کا علم نہیں۔ سیاسی جماعتوں کا بننا جمہوریت کے لیے اچھا ہے۔

ضیا لنجار کے گھر کو آگ لگانے کا کیس

نوشہروفیروز پولیس نے مئی 2025 میں مورو میں صوبائی وزیر داخلہ ضیاء لنجار کے گھر کو آگ لگانے کے کیس میں کالعدم تنظیم کے رہنما شفیع برفت کے ساتھ مرتضیٰ جتوئی اور ان کے بھائی مسرور جتوئی کو بھی نامزد کیا تھا۔

یہ مقدمہ لنجار ہاؤس کے مینیجر دوست علی سولنگی کی مدعیت میں درج کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ 20 مئی کو ملزمان نے حملہ کر کے ملازمین کو تشدد کا نشانہ بنایا، لوٹ مار کی اور گھر کو آگ لگا دی۔

ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا کہ حملہ آور کہہ رہے تھے کہ وہ مرتضیٰ جتوئی، ان کے بھائی مسرور جتوئی، پی ٹی آئی رہنما باز خان سیال اور شفیع برفت کے کہنے پر یہ حملہ کر رہے ہیں۔

اسی دن مورو میں احتجاج کرنے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کارروائی کے دوران دو نوجوان، زاہد لغاری اور عرفان لغاری ہلاک ہو گئے جبکہ درجنوں افراد کو گرفتار کیا گیا۔

مرتضیٰ جتوئی کے خلاف مذاق بننے والے مقدمات

سابق وفاقی وزیر، این پی پی کے سربراہ اور جی ڈی اے رہنما مرتضیٰ جتوئی پر موٹر سائیکل چوری، پیٹرول پمپ پر 3 ہزار روپے کی ڈکیتی اور بکری چوری جیسے کیسز بھی درج کیے گئے۔

تین دن قبل، ان کے خلاف موٹرسائیکل چوری کا کیس دادو کی عدالت سے سیشن کورٹ منتقل کیا گیا، جہاں سیشن جج نے مقدمے کی سماعت 18 اگست تک ملتوی کر دی۔

اس سے قبل، راںیپور کی عدالت نے ہنگورجہ تھانے میں درج موٹر سائیکل چوری، پیٹرول پمپ ڈکیتی اور سہولت کاری کے کیسز سے انہیں بری کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

بلاول زرداری کے قتل کیس میں گرفتاری

فروری 2025 میں مرتضیٰ جتوئی کو پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکن، بلاول زرداری، کے قتل کیس میں نوشہروفیروز سے گرفتار کیا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ 2024 کے الیکشن کے دوران قتل کا مقدمہ درج ہوا تھا، اور عدالت میں پیش نہ ہونے پر انہیں گرفتار کیا گیا۔

28 فروری کو ضمانت منظور ہونے کے بعد مرتضیٰ جتوئی کو نارا جیل سے رہا کر دیا گیا تھا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں