کراچی میں پٹاخوں کے گودام میں دھماکے کا مقدمہ درج، ملبے سے مزید دو افراد کی لاشیں ملنے کے بعد ہلاک افراد کی تعداد 6 ہوگئی

فہرستِ مضامین

کراچی ( اسٹاف رپورٹر)  کراچی میں صدر کے علاقے میں پٹاخوں کے گودام  میں دھماکےسے جاں بحق افراد کی تعداد 6 ہوگئی، پولیس نے دھماکے کا مقدمہ اپنی مدعیت میں درج کرلیا۔

گذشتہ روز صدر میں واقع پٹاخوں کے گودام میں زرودار دھماکے کے بعد آگ لگ گئی تھی، ابتدائی طور پر بتایا گیا تھا کے دھماکے میں 34 افراد زخمی ہوئے، تاہم ریسکیو ڈبل ون ڈبل ٹو کے ترجمان کے مطابق ملبے سے ابھی تک 6 لاشیں مل چکی ہیں۔

ریسکیو حکام کے مطابق پٹاخے بنانے کے کارخانے اور گودام میں دھماکے کے بعد آگ لگنے سے متاثر ہونے والی عمارت کے ملبے سے جمع کے روز مزید 2 لاشیں نکال لی گئیں۔

نکالی جانے والی ایک لاش کی شناخت 45 سالہ شہزاد کے نام سے ہوئی جبکہ دوسرے شخص کی شناخت تاحال ممکن نہ ہو سکی، واقعے میں مجموعی طور پر جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 6 تک پہنچ گئی ہے۔

پولیس مدعیت میں مقدمہ

دوسری جانب پٹاخوں کے گودام میں دھماکے کا مقدمہ پریڈی تھانے میں درج کرلیا گیا ہے، مقدمہ سرکار کی مدعیت میں درج کیا گیا، جس میں قتل بالسبب، دھماکا خیز مواد آتش گیر مادے اور غفلت برتنے کی دفعات شامل ہیں۔

مقدمے کے متن کے مطابق گودام مالک حنیف اور ایوب کو نامزد کیا گیا ہے، ملزم حنیف زخمی ہوکر ہسپتال میں زیر علاج ہے، جب کہ ایک ملزم فرار ہوچکا ہے۔

پولیس حکام کا بتانا ہے کہ تاج کمپلیکس کے قریب گنجان آباد علاقے میں آتش بازی کے سامان کے گودام میں جمعرات کو سہ پہر کے وقت دھماکا ہوا، دھماکا اتنا شدید تھا جس کی آواز دور دور تک سنی گئی اور آس پاس کی عمارتوں کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے تھے۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق شارٹ سرکٹ کے باعث دکان میں آگ لگی اور انتہائی آتش گیر مواد کی موجودگی کی وجہ سے زوردار دھماکہ ہوا، جس سے عمارت کے ستون اور دیواریں متاثر ہوئیں جبکہ بھاری سیمنٹ کے بلاک وہاں کھڑی گاڑیوں پر جاگرے۔ قریب کی عمارتوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔

آتشبازی کے سامان میں بارودی مواد

انچارج سی ٹی ڈی راجہ عمر خطاب نے دھماکے سے متاثر گوادم کا دورہ کیا تھا ، میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ بہت سی چیزیں ہیں جنہیں ہم چھوٹے الفاظ میں چھپا دیتے ہیں،کہنے کو یہ آتشبازی کا سامان ہے مگر اس میں بارودی مواد ہوتا ہے۔

راجہ عمر خطاب کا کہنا تھا کہ پچھلے سالوں میں  ہم نے یہاں وے 2 ٹن ایکسپلوزو پکڑا تھا، آتشبازی کے سامان میں بارودی مواد استعمال ہوتاہے،قانون کےمطابق ایک دکان میں50کلو سےزیادہ نہیں رکھاجاسکتا ہے۔

انچارج سی ٹی ڈی کے مطابق دکان میں بارودی مواد رکھنے کی بھی ایس او پیز ہیں، ایسا مواد پیٹرول پمپ اور آبادی سے دور رکھا جاتا ہے، انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر سمیت دو اتھارٹیز انہیں قانونی طور پر لائسنس جاری کرتےہیں۔

انچارج سی ٹی ڈی راجہ عمر خطاب نے مزید بتایا کہ پاکستان میں پٹاخےامپورٹ بھی ہوتےہیں اور لوکل بھی بنتے ہیں،:پنجاب اور کے پی کےلائسنس یافتہ لوگ یہ بناتےاورمنگواتےہیں۔

پچاس کلو سے زیادہ مواد موجود تھا؟

راجہ عمر خطاب نے خدشہ ظاہر کیا ہے جس مقام پر دھماکہ ہوا ہے، لگتا ہے کہ کہ پچاس کلو سے بہت زیادہ مواد یہاں موجود تھا،لوگ اس کو خطرناک نہیں سمجھتے ہیں یہ محض پٹاخہ نہیں ہوتا۔

انچارج سی ٹی ڈی راجہ عمرخطاب نے مزید کہا کہ میں سمجھتا ہوں یہ غیر قانونی طور پر دکان اور گودام قائم تھے،اس کےنتیجے میں بہت زیادہ نقصان ہوا ہے،سی ٹی ڈی سمیت دیگر ادارے واقعہ کی تفتیش کررہےہیں

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں