رانا ثناء اللہ کے گھر پر حملے کا کیس،پی ٹی آئی کے اہم رہنماؤں کو 10 سال قید کی سزا

فہرستِ مضامین

فیصل آباد ( ڈبلیو ٹی این مانیٹرنگ ) فیصل آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت ( اے ٹی سی ) نے پیر کے روز پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے اہم رہنماؤں عمر ایوب، شبلی فراز، زرتاج گل اور دیگر 56 افراد کو 10 سال قید کی سزا سنائی، 34 افراد کو بری کر دیا گیا۔

یہ فیصلہ سابق وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کے گھر پر 9 مئی 2023 کے ہنگاموں کے دوران حملے کے مقدمے میں سنایا گیا، عدالت نے سابق وفاقی وزیر فواد چودھری اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بیٹے زین قریشی کو بری کرنے کا حکم دیا ہے۔

9 مئی 2023 کو اُس وقت ملک بھر میں شدید ہنگامے پھوٹ پڑے تھے جب سابق وزیر اعظم عمران خان کو گرفتار کیا گیا۔ مظاہرین نے فوجی تنصیبات اور سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچایا۔ اگرچہ عمران خان کو بعد میں رہا کیا گیا، وہ اگست 2023 سے مختلف مقدمات میں قید ہیں۔ ان فسادات کے بعد ہزاروں کارکنوں اور پارٹی قیادت کو گرفتار کیا گیا۔

59 ملزمان کو قید کی سزا

سابق وزیر داخلا اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء کے گھر پر حملے کا مقدمہ 9 مئی 2023 کو سمن آباد تھانے میں درج کیا گیا تھا، پیر کے روز کیس کی  سماعت کی اے ٹی سی کے جج جاوید اقبال شیخ نے کی۔

پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم کے سربراہ ملک خالد شفیق نے سزاؤں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کل 109 ملزمان میں سے 59 کو 10 سال قید با مشقت اور 16 کو 3 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

عمر ایوب، شبلی فراز، زرتاج گل اور محمد احمد چٹھہ کو دیگر 9 مئی کے مقدمات میں سزا ملنے کے بعد ان کی پارلیمانی رکنیت بھی ختم کر دی گئی تھی۔

دیگر رہنماؤں میں شیخ راشد شفیق سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کے بھتیجے، اشرف خان سونا، رائے حسن نواز، رائے مرتضیٰ اقبال، سابق ایم این اے کنول شوذب اور سابق ایم پی اے فرح آغا شامل ہیں، جنہیں 31 جولائی کو دیگر مقدمات میں بھی سزا سنائی گئی تھی۔

سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری، جنہوں نے 9 مئی کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی چھوڑ دی تھی، اور ایم این اے زین قریشی پی ٹی آئی کے نائب چیئرمین شاہ محمود قریشی کے بیٹے کو مقدمے سے بری کر دیا گیا۔ فواد اور زین کو فیصل آباد میں درج تین دیگر 9 مئی کے مقدمات میں بھی پہلے بری کیا جا چکا ہے۔

آئین کے آرٹیکل 63 (1) ( جی ) تحت سزا یافتہ پارلیمنٹرینز کو اخلاقی بدعنوانی یا بدعملی پر سزا ملنے کی صورت میں خود بخود نااہلی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

پی ٹی آئی کا رد عمل

پی ٹی آئی رہنما زرتاج گل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر عدالتی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ بے گناہ ہیں۔ ان کے مطابق فیصلہ اس بنیاد پر کیا گیا کہ وہ 7 مئی 2023 کو لاہور میں عمران خان کی زمان پارک رہائش گاہ پر ہونے والے ایک اجلاس میں موجود تھیں، جہاں مبینہ طور پر احتجاج کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔

زرتاج گل نے کہا کہ وہ اس دن لاہور میں نہیں بلکہ ڈیرہ غازی خان میں اپنے حلقے میں موجود تھیں جہاں انہوں نے دعائے فاتحہ، افتتاح، شادی اور دیگر تقریبات میں شرکت کی۔ انہوں نے اس دن کی سرگرمیوں کی تصاویر اور شواہد عدالت میں پیش کیے تھے۔

فیصلے میں تاخیر

پی ٹی آئی کے وکیل شفیق کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالتوں کو 9 مئی کے مقدمات نمٹانے کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن اس ماہ کے آغاز میں ختم ہو چکی تھی، اس لیے اب روزانہ کی بنیاد پر سماعتیں ہو رہی ہیں۔ مقدمے کی تفتیش کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو جولائی 2024 میں چالان جمع کرانے کے لیے طلب کیا گیا تھا۔

اپوزیشن کے خلاف مقدمات

آج کے فیصلے انسداد دہشت گردی عدالتوں کی جانب سے پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف سنائی گئی کئی سزاؤں میں تازہ اضافہ ہیں۔

22 جولائی کو لاہور کی انسداد دہشتگردی عدالت نے یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ، میاں محمود الرشید اور دیگر کو شیرپاؤ پل پر توڑ پھوڑ کے مقدمے میں 10 سال قید با مشقت کی سزا سنائی تھی، جبکہ شاہ محمود قریشی اور 5 دیگر افراد کو بری کر دیا گیا تھا۔

اسی روز، سرگودھا کی اے ٹی سی نے پنجاب اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف ملک احمد خان بھچھر سمیت 32 افراد کو موسیٰ خیل تھانے میں درج مقدمے میں سزا سنائی تھی۔

31 جولائی کو فیصل آباد اے ٹی سی نے تین مقدمات میں 100 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کو 10 سال تک قید کی سزا سنائی۔ ان میں عمر ایوب، شبلی فراز، زرتاج گل اور سنی اتحاد کونسل کے سربراہ حمید رضا شامل تھے۔

ایک مقدمے میں 67 میں سے 60 افراد کو سزا، جبکہ 7 کو بری کیا گیا۔ دوسرے مقدمے میں 108 میں سے 107 کو 10 سال با مشقت قید، ایک کو 3 سال قید اور 77 افراد کو بری کیا گیا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں