پنجاب کے تین دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہونے کے بعد دریائے سندھ میں شدید سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، راجنپور کے ڈپٹی کمشنر شفقت اللہ مشتاق کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ میں بھی بڑی سطح کا سیلاب متوقع ہے، جس کی وجہ سے نشیبی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے، دریائے سندھ کے کنارے فلڈ ریلیف کیمپ بھی قائم کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صحت، لائیو اسٹاک اور ریسکیو ٹیمیں سرگرم ہو چکی ہیں اور کچے کے علاقے میں پولیس اہلکار بھی ریسکیو کاموں میں حصہ لے رہے ہیں۔
حکومت سندھ سپر فلڈ سے نپٹنے کی تیاری کر رہی ہے: جام خان شورو
سندھ کے وزیر آبپاشی جام خان شورو نے کہا ہے کہ پنجاب میں پیدا ہونے والی صورتحال کے بعد حکومت سندھ سپر فلڈ کی تیاری کر رہی ہے۔ تمام بندوں (ڈیمز یا پشتوں) پر صوبائی وزراء کی ڈیوٹیاں لگا دی گئی ہیں، ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے جام خان شورو نے کہا کہ وہ سیلابی صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔ عام طور پر پانی پنجند تک پہنچنے سے پہلے ہی کم ہو جاتا ہے، لیکن اگر پانی پنجند تک پہنچ جائے تو بھی سندھ حکومت کے پاس دو دن کا وقت ہوگا۔
سندھ میں ریلیف کیمپس کے مقامات کی نشاندہی
صوبائی وزیر جام خان شورو نے کہا کہ سندھ میں بندوں کو کاٹنے کا آپشن موجود نہیں، اگر بند ٹوٹ گئے تو پانی آبادی میں داخل ہو جائے گا، سکھر بیراج کا اسٹرکچر بھی پرانا ہے، اس کی مرمت جاری ہے، تمام بندوں کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ جام خان شورو نے بتایا کہ وہ اس وقت سکھر میں موجود ہیں، جبکہ ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز ریلیف کیمپس کے لیے مقامات کی نشاندہی کر رہے ہیں۔
سندھ کے بیراجوں میں کتنی گنجائش ہے؟
جام خان شورو کے مطابق گڈو بیراج کی گنجائش 12 لاکھ کیوسک، سکھر بیراج کی 9 لاکھ 60 ہزار کیوسک، اور کوٹری بیراج کی گنجائش 8 لاکھ 70 ہزار کیوسک ہے، انہوں نے کہا کہ وہ سیلابی صورتحال کو مانیٹر کر رہے ہیں اور امید ہے کہ پنجند سے پہلے پانی کی سطح کم ہو جائے گی، تاہم اگر ایسا نہ ہو تو بھی سندھ حکومت تیار ہے۔
سندھ کے کچے میں گائوں زیر آب آگئے
پنجاب میں سیلاب اور دریائے سندھ میں اضافے کے باعث سندھ کے کچے کے علاقے میں کئی گاؤں زیرِ آب آ چکے ہیں، نوشہرو فیروز اور خیرپور کے کچے کے علاقوں میں دریا کا پانی کئی دیہاتوں میں داخل ہو گیا ہے، پانی کی سطح میں اضافے کے باعث کچے سے شہروں کو جانے والے راستے بھی زیرِ آب آ چکے ہیں، جس کی وجہ سے ان دیہاتوں کا زمینی رابطہ شہروں سے منقطع ہو چکا ہے۔