پنجاب میں تیز آواز میں گانے بجانا اب باقاعدہ جرم بن چکا ہے۔ تازہ واقعہ 25 اکتوبر کو ضلع اوکاڑہ کے علاقے منڈی احمد آباد میں پیش آیا، جہاں ٹریکٹر ڈرائیور محمد بابر ولد محمد عباس کے خلاف اونچی آواز میں گانے سننے پر پولیس کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا۔
اسی طرح ضلع قصور کے شہر پتوکی میں بھی پولیس نے ایک نوجوان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کیا۔ پولیس کے مطابق مذکورہ ملزم کے خلاف پنجاب ساؤنڈ سسٹم ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
22 اکتوبر 2025 کی شام پتوکی کے علاقے حبیب آباد لنڈا بازار میں پولیس کو اطلاع ملی کہ ایک نوجوان نور جہاں کے گانے اونچی آواز میں چلا رہا ہے۔ پولیس موقع پر پہنچی اور نوجوان کو حراست میں لے لیا۔
تفتیش کے دوران نوجوان، جس کا نام محمد فاروق بتایا گیا، نے کہا کہ وہ اونچی آواز میں گانے سننے کا شوقین ہے لیکن اسے معلوم نہیں تھا کہ یہ بھی کوئی جرم ہے۔ پولیس نے اسے گرفتار کرکے پنجاب ساؤنڈ سسٹم (ریگولیشن) ایکٹ 2015 کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔
پہلے بھی ایسے واقعات پیش آچکے ہیں
اوکاڑہ اور پتوکی کے یہ واقعات اپنی نوعیت کے پہلے نہیں۔ اس سے قبل 6 ستمبر 2025 کو لاہور کے نواب ٹاؤن میں دانش علی نامی نوجوان کے خلاف بھی اونچی آواز میں نصیبو لال کے گانے بجانے پر ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ دانش علی کو گرفتار کیا گیا اور وہ تین دن جیل میں رہنے کے بعد 11 ستمبر کو ضمانت پر رہا ہوا۔
اسی طرح 16 اکتوبر 2025 کو اوکاڑہ میں ایک رکشہ ڈرائیور نسیم بلوچ کے خلاف بھی اسی ایکٹ کے تحت کارروائی کی گئی۔ اس پر الزام تھا کہ وہ رکشے میں تیز آواز میں روایتی گانے سن رہا تھا۔
پنجاب ساؤنڈ سسٹم (ریگولیشن) ایکٹ 2015 کیا ہے؟
یہ قانون 2015 میں پنجاب حکومت نے منظور کیا، جس کا مقصد عوامی مقامات پر اونچی آواز میں ساؤنڈ سسٹم یا لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کو منظم کرنا ہے تاکہ شور اور مذہبی، سیاسی یا سماجی تقریبات میں پیدا ہونے والی آواز کی آلودگی کو کم کیا جا سکے۔
قانون کے اہم مقاصد:
شور اور عوامی تکلیف کو روکنا
مذہبی، لسانی اور سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنا
نفرت انگیز تقاریر یا گانوں کے ذریعے انتشار پھیلنے سے روکنا
اہم دفعات
ساؤنڈ سسٹم یا لاؤڈ اسپیکر استعمال کرنے کے لیے اجازت لازمی ہے،
اور یہ اجازت متعلقہ ضلعی انتظامیہ (ڈپٹی کمشنر یا ایس ایچ او) سے تحریری طور پر لی جائے گی۔
صرف ایک یا دو اسپیکروں کی اجازت دی جاتی ہے،
اور آواز کی شدت مقررہ حد سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔
نفرت انگیز تقاریر یا ایسے گانے جن سے عوامی نظم متاثر ہو، سختی سے ممنوع ہیں۔
خلاف ورزی کی سزا
پہلی بار: چھ ماہ تک قید یا دس ہزار روپے تک جرمانہ یا دونوں۔
دوبارہ خلاف ورزی پر: مزید سخت سزا، قید اور جرمانہ دونوں ہو سکتے ہیں۔
عوامی ردِعمل
پنجاب میں اونچی آواز میں گانے سننے پر شروع ہونے والی ان کارروائیوں پر سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے۔
بہت سے شہریوں نے پولیس کے اقدامات کو ذاتی آزادی اور پرائیویسی میں مداخلت قرار دیا ہے۔
سماجی اور قانونی حلقوں میں یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ:
کیا اونچی آواز میں گانا سننا واقعی کوئی جرم ہونا چاہیے؟
کیا پولیس کے ایسے اقدامات سے شہری آزادی متاثر ہو رہی ہے؟
اور کیا اس قانون کا مقصد امن قائم رکھنا ہے یا عوام کی نجی زندگی میں مداخلت؟
فنکاروں اور ادبی حلقوں کی مذمت
معروف گلوکارہ میڈم نور جہاں اور نصیبو لال کے گانے بجانے والوں کے خلاف پولیس کارروائی پر فنکاروں اور ادبی حلقوں نے سخت ردِعمل دیا ہے۔
میڈم نور جہاں کے قریبی شاعر حسن عباس رضا نے WTN نیوز سے گفتگو میں کہا:
“یہ معاشرہ گٹر بن چکا ہے، جہاں لوگوں کو سانس لینے کی بھی اجازت نہیں۔
نور جہاں کے گانے بجانے پر کارروائی میڈم نور جہاں کی توہین ہے۔
وہ ہماری فخر تھیں، اور اگر کوئی اپنی پسند سے گانے سنتا ہے تو یہ ہر شہری کا حق ہے۔
پنجاب پولیس کے اس عمل کی ہم سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔”