سکندر علی خان بھٹو کا نرگس سے عشق: تنگ پتلون اور سر شاہنواز بھٹو کا انکار

فہرستِ مضامین

(جمال ابڑو کی کتاب “اونہی ڳالھ اسرار جی” سے ماخوذ)

سر شاہنواز بھٹو کے بڑے صاحبزادے اور ذوالفقار علی بھٹو کے بڑے بھائی سکندر علی خان بھٹو کے ساتھ ادا شمس کی گہری دوستی تھی، اور میں بھی اکثر نجی محفلوں میں ان کے ساتھ ہوتا تھا۔ سکندر علی خان نہایت شائستہ اور مہذب انسان تھے۔ علم و ادب سے بھی خاص شغف رکھتے تھے اور انگریزی میں شاعری بھی کیا کرتے تھے۔ شکار اور کرکٹ کے شوقین تھے، اور دل میں عشق کی چنگاری بھی تھی۔

ایک مرتبہ ایک نجی محفل میں میں نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو وہ جذباتی ہوگئے۔ انہوں نے اپنے سینے کی جیب سے ایک تصویر نکال کر مجھے دی۔ وہ معروف فلمی اداکارہ نرگس کی تھی، جس پر ان کے اپنے ہاتھ سے لکھا تھا:

“اپنے کرکٹر سکندر کے نام۔”

میں نے پوچھا کہ پھر کیا ہوا؟ کہنے لگے: “قسمت (بدقسمتی)!”

وہ سر شاہنواز کو ادب سے “سر صاحب” کہتے تھے (بابا نہیں کہتے تھے)۔ انہوں نے بتایا کہ بڑی ہمت کرکے سر صاحب سے اس بارے میں بات کی۔ سر صاحب نے کہا: “لڑکی کو ساتھ لے آؤ۔”

وہ دونوں کانوینٹ اسکول میں ساتھ پڑھتے تھے۔ سکندر نے نرگس کو بلایا، اور وہ خوشی خوشی آ گئی۔ مگر بدقسمتی سے اس وقت اس نے تنگ انگریزی پتلون پہن رکھی تھی۔ سر صاحب نے اسے پاؤں سے لے کر اوپر تک غور سے دیکھا، پھر میری طرف رخ کرکے انگریزی میں کہا:

“تم نے لڑکی سے عشق کیا ہے یا اس کی پتلون سے؟”

نرگس دل برداشتہ ہو کر واپس چلی گئی، اور میں بھی حیران و خاموش رہ گیا۔ خاندانی ماحول میں سر صاحب کا یہ ایک جملہ ہی کافی تھا—یہ صاف انکار تھا، اور بڑوں کے سامنے دوبارہ عرض کرنا بے ادبی سمجھا جاتا تھا۔

یہی سکندر علی خان کی شاعری، شراب نوشی اور شکار کے شوق کے پیچھے چھپا ہوا راز تھا۔ ایسے کروڑوں قصے ہوں گے جو دلوں میں ہی دفن ہو گئے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں