ایران کے سابق سفارتکار اور 1997 سے 2005 تک کے وزیرِ خارجہ ، رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کے قریبی سمجھے جانے والے ساتھی ، اسٹریٹجک کونسل برائے خارجہ تعلقات کے سربراہ کمال خرازی پر قاتلانہ حملے نے نئی علامات کو جنم دیا ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ امریکی اوراسرائیلی منصوبے میں ایک اسٹریٹجک اور ڈرامائی تبدیلی آئی ہے۔
یہ تبدیلی ایران کی نمایاں شخصیات کے خاتمے اور ان افراد کو نشانہ بنانے سے متعلق ہے، جنہیں وہ ایرانی نظام کا ستون قرار دیتے ہیں، حالانکہ واشنگٹن کئی بار یہ کہہ چکا ہے کہ وہ ان میں سے بعض کے ساتھ رابطے میں ہے۔
عملیت پسند، نرم مزاج شخصیت کے حامل
خرازی اس حملے میں بچ گئے، وہ ایک نرم مزاج اور پُرسکون شخصیت کے حامل ہیں۔ ان میں جارحیت کا تاثر نہیں ملتا اور وہ عام طور پر میڈیا میں ظاہر ہونا پسند نہیں کرتے۔ ان کی بقا ایران میں آنے والے نئے مرحلے اور تعطل کےشکار مذاکرات کے تناظر میں اہمیت رکھتی ہے۔
خرازی جنہیں انقلابِ خمینی کو برآمد کرنے کے عمل میں سرگرم سمجھا جاتا ہے، اپنی عملیت پسندی کے باوجود ایسے خیالات کے حامل بن گئے ،جنہیں ناقدین زہریلا قرار دیتے ہیں۔
ان کی سوچ اس بنیاد پر قائم ہے کہ اس منصوبے کو ایسے افراد کی ضرورت ہے ،جو طویل المدتی اسٹریٹجک حکمتِ عملی تیار کر سکیں، جیسے اسے ایسے قائدین کی بھی ضرورت ہوتی ہے ،جو ان منصوبوں کو زمینی سطح پر عملی جامہ پہنائیں۔
سلیمانی افواج کا منصوبہ ساز
کچھ ذرائع کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کو ایسے شخص کی ضرورت تھی جو توسیع پسندانہ پالیسیوں کی منصوبہ بندی کر سکے ، حالات نے انہیں خرازی کے قریب کر دیا۔
خرازی کو ایران کی ”ڈیپ اسٹیٹ ”سے وابستہ سمجھا جاتا ہے اور وہ نرم قوت کی علامت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ رہبرِ اعلیٰ کے قریب ہونے کے باعث جو پسِ پردہ راہ کر ریاستی امور چلاتے ہیں۔
خرازی نے ایرانی اثر و رسوخ اور دراندازی کی حکمتِ عملی تیار کرنے میں کردار ادا کیا، جسے سلیمانی کی افواج کے ذریعے (شام، لبنان، عراق اور یمن) میں نافذ کیا گیا۔
بعد ازاں جنوری 2020 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت کے دوران بغداد ایئرپورٹ کے قریب ایک امریکی ڈرون حملے میں قاسم سلیمانی کو ہلاک کر دیا گیا۔
قتل سے مذاکرات تک
اس جاری جنگ کے دوران امریکی مؤقف میں پائے جانے والے تضادات پر غور کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ خرازی نے اپنی سابقہ سوچ جو خطے میں بدامنی پھیلانے اور ایرانی اثر و رسوخ بڑھانے پر مبنی تھی کو بدل کر ایک نیا کردار اختیار کر لیا ہے۔
اب وہ ایک ثالث یا اپنے نظام اور امریکہ کے درمیان پیغام رسان کا کردار ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں، خصوصاً مذاکرات کے معاملے میں۔ اس عمل میں پاکستان بھی شامل ہو گیا ہے، جس نے فریقین کو قریب لانے اور جنگ بندی تک پہنچنے کے لیے ثالثی کی ذمہ داری سنبھالی ہے۔
مایوسی کے بعد حملہ
خرازی کے تہران میں گھر پر کیے گئے ہوائی حملے سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ امریکہ اب کسی بھی ایرانی عہدیدار پر بھروسہ نہیں کرتا جس کے ساتھ مذاکراتی میز پر بیٹھا جا سکے۔
نیویارک ٹائمزکی رپورٹ اور حل کی کوششوں میں رکاوٹ
نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ جو ایرانی حکام کے حوالے سے شائع ہوئی،اس کے مطابق کمال خرازی پاکستان کے ساتھ رابطہ کاری کی نگرانی کر رہے تھے، تاکہ اسلام آباد میں امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان ایک اجلاس ممکن بنایا جا سکے۔
اگر دونوں فریق میز پر پیش کی جانے والی شرائط کو قبول کرتے، تو مبصرین کے مطابق یہ ظاہر ہوتا کہ واشنگٹن کے فیصلہ ساز ذہن پر مایوسی چھا گئی تھی۔چونکہ جنگ کے توازن میں امریکہ کو سب سے طاقتور سمجھا جاتا ہے، اس لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ان مذاکرات کو روکنے کی کوشش کی، جس کے لیے خرازی کے گھر کو نشانہ بنایا گیا، جس میں ان کی اہلیہ جاں بحق ہو گئیں۔
خرازی اور قابلیاف کے بعد
گزشتہ دنوں جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایک طرف اور ایران کی جانب سے دوسری طرف جنگ شدت اختیار کر رہی تھی، رہبرِ اعلیٰ کی ہلاکت کے بعد یہ قیاس آرائیاں بڑھ گئیں کہ کون سا ایرانی اہلکار امریکہ کے ساتھ ممکنہ مذاکرات میں ریاست کی نمائندگی کر سکتا ہے۔
اسی پس منظر میں واشنگٹن نے صدر ٹرمپ کے ذریعے یہ اشارہ دیا کہ ان کی انتظامیہ پارلیمنٹ کے سربراہ محمد باقر قابلیاف سے بات چیت کر رہی ہے۔
تاہم قابلیاف نے اس دعوے کو مسترد کیا اور ایک ٹویٹ میںجو ”ایکس ”پلیٹ فارم پر پوسٹ کی گئی،رمزی انداز میں کہا:جو کچھ خبریں یاحقائق بازار کھلنے سے پہلے سامنے آتے ہیں، وہ اکثر صرف منافع کمانے کی تیاری ہوتی ہیں۔
بنیادی طور پر یہ ایک الٹا اشارہ ہے۔ میں اس کے برعکس کرتا ہوں۔ اگر انہوں نے قیمت بڑھائی تو شارٹ سیل کریں، اگر کمی کی تو خریدیں۔یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ قابلیاف نے واشنگٹن کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے اپنی حکمت عملی یا محتاط رویہ برقرار رکھا۔
شخصیت کا پراسرار پہلو
اب بھی ایرانی سیاسی شخصیت کے بارے میں پر اسراریت قائم ہے، جو ممکنہ طور پر امریکہ کے ساتھ کسی مذاکرات میں حصہ لے سکتی ہے، خاص طور پر اس کے بعد کہ امریکی اور اسرائیلی فضائیہ نے ایران کے بیشتر اہم رہنماؤں کو نشانہ بنایا، جو اسلامی جمہوریہ ایران میں فیصلہ ساز اور بااختیار سمجھے جاتے تھے۔