ترتیب: اِشفاق احمد
ایرانی حکام نے الجزیرہ کو بتایا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کا مقصد ایرانی شناخت کو مٹانا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری جنگ کے نتیجے میں ایرانی ثقافتی ورثے کے مقامات، تعلیمی اداروں اور سائنسی و تحقیقی مراکز کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔
اگرچہ امریکہ اور اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ صرف فوجی اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں، لیکن ایرانی حکومت کے اعداد و شمار ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں، جس کے مطابق اب تک کم از کم 56 ثقافتی ورثے کے مقامات، 30 جامعات اور 55 کتب خانے متاثر ہو چکے ہیں، جیسا کہ مقامی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے۔
یکم اپریل کو الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایران کے وزیر ثقافت و سیاحت رضا صالحی امیری نے ان تباہ کاریوں کو ایرانی شناخت پر “دانستہ اور شعوری حملہ” قرار دیا۔
جنگ کے جاری رہنے کے ساتھ ہم ان اہم ایرانی ثقافتی اور تعلیمی مراکز کا جائزہ لیتے ہیں جنہیں اب تک امریکہ اور اسرائیل نے نشانہ بنایا ہے۔
اسکولز:
ایران کے خلاف جنگ کا آغاز 28 فروری کو جنوبی ایران کے شہر میناب میں واقع ایک گرلز پرائمری اسکول “شجرہ طیبہ” پر حملے سے ہوا۔ اس حملے میں کم از کم 170 افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر 7 سے 12 سال کی بچیاں شامل تھیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدائی طور پر اسکول پر حملے کی تردید کی تھی۔
تاہم، متعدد آزاد تحقیقات، جن میں الجزیرہ اور انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل شامل ہیں، نے کہا ہے کہ یہ حملہ غالباً دانستہ تھا اور اس میں امریکی ساختہ ٹوماہاک میزائل استعمال کیا گیا۔
جامعات اور تحقیقی مراکز
جنگ کے آغاز (28 فروری) سے اب تک کم از کم 30 ایرانی جامعات کو امریکہ اور اسرائیل نے نشانہ بنایا ہے۔
28 مارچ کو ایران یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پر ایسے حملے کیے گئے جنہیں ایرانی میڈیا نے امریکی-اسرائیلی مشترکہ کارروائی قرار دیا، تاہم نقصانات اور ہلاکتوں کی تفصیل واضح نہیں۔
ایک دن بعد اصفہان کی ایک یونیورسٹی نے بتایا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد دوسری بار اسے فضائی حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس میں چار ملازمین زخمی ہوئے۔
4 اپریل کو شمالی تہران میں واقع شہید بہشتی یونیورسٹی کے لیزر اینڈ پلازما ریسرچ انسٹی ٹیوٹ پر بمباری کی گئی۔
یونیورسٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ “دشمنانہ اقدام نہ صرف تعلیمی ماہرین اور سائنسی ماحول کے خلاف ہے بلکہ عقل، تحقیق اور آزادیِ فکر پر بھی حملہ ہے” اور عالمی اداروں سے اس پر آواز اٹھانے کی اپیل کی۔

ایران کے وزیرِ سائنس، تحقیق و ٹیکنالوجی حسین سیمائی سراف نے کہا کہ ایرانی سائنسدان دہائیوں سے نشانے پر ہیں اور جون 2025 کی 12 روزہ جنگ میں بھی شہید بہشتی یونیورسٹی کے کئی پروفیسرز کو اسرائیل نے قتل کیا۔
انہوں نے کہا کہ “جامعات اور تحقیقی مراکز پر حملہ پتھر کے دور میں واپس جانے کے مترادف ہے”، اور اسے ٹرمپ کے اس بیان سے جوڑا جس میں انہوں نے ایران کو “پتھر کے دور میں واپس بھیجنے” کی دھمکی دی تھی۔
مارچ کے آخر میں تہران کی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ایک تحقیقی مرکز کو مکمل تباہ کر دیا گیا جبکہ دیگر شعبوں کو بھی نقصان پہنچا۔ یہاں مقامی سیٹلائٹ تیار کیے جا رہے تھے۔
امریکہ اور اسرائیل نے تہران میں واقع پاسچر انسٹی ٹیوٹ کو بھی نشانہ بنایا، جو 100 سال سے زائد پرانا ادارہ ہے اور ویکسین، حیاتیاتی مصنوعات اور تشخیص پر کام کرتا ہے۔
6 اپریل 2026 کو تہران کی شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی، جو ایران کی ممتاز سائنسی درسگاہ ہے اور جسے امریکہ کے ایم آئی ٹی سے تشبیہ دی جاتی ہے، کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹس کے مطابق اس کے کمپلیکس، مسجد اور لیبارٹریوں کو شدید نقصان پہنچا۔
ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے الزام عائد کیا کہ اس حملے میں “بنکر بسٹر بم” استعمال کیا گیا اور اسے “ٹرمپ کی حماقت اور جہالت” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ “ایران کا علم کنکریٹ میں نہیں بلکہ اس کے اساتذہ اور ذہین افراد کے ارادوں میں محفوظ ہے”۔
لائبریریاں
ایران کی پبلک لائبریریز ایسوسی ایشن کے مطابق کم از کم 55 کتب خانے متاثر ہوئے، جن میں سے دو مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔
ثقافتی ورثے کے مقامات
ایران کی وزارتِ ثقافتی ورثہ کے مطابق اب تک کم از کم 56 عجائب گھر، تاریخی عمارتیں اور ثقافتی مقامات متاثر ہوئے ہیں، جن میں تہران کے 19 مقامات شامل ہیں، جیسے گلستان محل، گرینڈ بازار اور سابق سینیٹ عمارت۔
گلستان محل، جو قاجار دور (1789–1925) کا ہے، فارسی اور یورپی طرزِ تعمیر کا حسین امتزاج ہے۔
تہران کا گرینڈ بازار بھی ایک تاریخی تجارتی مرکز ہے جس کے کچھ حصے قاجار دور سے تعلق رکھتے ہیں۔
اصفہان میں 17ویں صدی کے چہل ستون محل اور مسجدِ جامع (ایران کی قدیم ترین جمعہ مسجد) کو بھی نقصان پہنچا۔ یونیسکو کے مطابق یہ مسجد 12 صدیوں پر محیط اسلامی فنِ تعمیر کی نمائندگی کرتی ہے۔
8 مارچ کو خرم آباد میں واقع فلک الافلاک قلعہ کو بھی نقصان پہنچا، اگرچہ اس کا مرکزی ڈھانچہ محفوظ رہا۔
ایرانی وزیر ثقافت نے کہا کہ “مرمت کبھی بھی اصل تاریخی حالت واپس نہیں لا سکتی—ہر دراڑ ایک مستقل نشان ہوتی ہے”۔
انہوں نے عالمی برادری اور یونیسکو کی خاموشی پر بھی تنقید کی، جبکہ یونیسکو نے ایران میں تاریخی مقامات کو نقصان پہنچنے کی تصدیق کی ہے۔
کیا یہ وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے؟
ماہر علی واعظ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل ایران کی صنعتی اور تعلیمی صلاحیت کو تباہ کر کے اس کی تعمیر نو روکنا چاہتے ہیں تاکہ اسے ایک ناکام ریاست بنایا جا سکے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ “ہزاروں سال پرانی تہذیب کو فضائی حملوں سے ختم نہیں کیا جا سکتا”۔
یونیورسٹی آف یارک کے ماہر کرسٹوفر فیدرسٹون کے مطابق ٹرمپ کے بیانات اس نوعیت کے حملوں کو معمول بنانے کی کوشش ہیں، جبکہ ماضی میں انہیں “حادثاتی” قرار دیا جاتا تھا۔
ماضی کی مثالیں
عراق:
2003 میں امریکی حملے کے بعد بغداد کے نیشنل میوزیم کو لوٹ لیا گیا اور ہزاروں نوادرات ضائع ہو گئے۔
اسی سال نیشنل لائبریری کو بھی آگ لگا دی گئی، جس میں 90 فیصد نایاب کتب تباہ ہو گئیں۔
غزہ:
یونیسکو کے مطابق اسرائیل نے 2023 سے جاری جنگ میں تقریباً 200 ثقافتی مقامات کو نقصان پہنچایا یا تباہ کیا۔
ان میں جبالیا کا بازنطینی چرچ، قدیم انتھیدون بندرگاہ اور غزہ کی تاریخی عمری مسجد شامل ہیں، جو صدیوں پرانے ورثے کی علامت تھیں۔