امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر وہ ایران کے خلاف طے شدہ حملے کو دو ہفتوں کے لیے مؤخر کرنے پر آمادہ ہیں، بشرطیکہ ایران آبنائے ہرمز کو فوری، مکمل اور محفوظ طریقے سے کھول دے۔
ان کے مطابق یہ ایک دو طرفہ جنگ بندی ہو گی۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اپنے تمام فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے اور ایران کے ساتھ طویل المدتی امن معاہدے پر پیش رفت کافی حد تک ہو چکی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ایران کی جانب سے 10 نکاتی تجویز موصول ہوئی ہے جو مذاکرات کے لیے قابلِ عمل بنیاد فراہم کرتی ہے۔
ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق امریکہ جن نکات پر مذاکرات کر رہا ہے وہ ایران کے پیش کردہ 10 نکاتی منصوبے کا حصہ ہیں۔ ان نکات میں خطے میں جاری جنگوں کا خاتمہ اور ایران کے لیے اہم سیاسی و اقتصادی ضمانتیں شامل ہیں۔
ایران کے 10 نکاتی منصوبے کے اہم نکات:
عراق، لبنان اور یمن میں جنگ کا مکمل خاتمہ۔
ایران کے خلاف جنگ کا مکمل اور مستقل خاتمہ، بغیر کسی وقت کی حد کے۔
پورے خطے میں تمام تنازعات کا اختتام۔
آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا۔
آبنائے ہرمز میں محفوظ اور آزادانہ بحری گزرگاہ کے لیے پروٹوکول اور شرائط کا قیام۔
ایران کی تعمیرِ نو کے اخراجات کے لیے مکمل معاوضے کی ادائیگی۔
ایران پر عائد تمام پابندیوں کا مکمل خاتمہ۔
امریکہ کے پاس منجمد ایرانی اثاثوں اور فنڈز کا فوری اجرا۔
ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کی مکمل یقین دہانی۔
مندرجہ بالا شرائط کی منظوری کے ساتھ تمام محاذوں پر فوری جنگ بندی۔
یہ نکات اس فریم ورک کا حصہ ہیں جس پر ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ مذاکرات کے لیے آمادہ ہے۔
امریکی صدر کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان زیادہ تر اختلافی نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، اور دو ہفتوں کی مہلت معاہدے کو حتمی شکل دینے میں مدد دے گی۔ انھوں نے کہا کہ بطور صدر، اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کی نمائندگی کرتے ہوئے، اس دیرینہ مسئلے کے حل کے قریب پہنچنا ان کے لیے باعثِ اعزاز ہے۔
ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کی تصدیق
ادھر ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز ایجنسی میں شائع ہونے والے ایک بیان کے مطابق، ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل نے پاکستان کی ثالثی سے طے پانے والے دو ہفتوں کے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ جنگ بندی معاہدہ ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی منظوری سے طے پایا۔
ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل نے ردعمل میں کہا ہے کہ اس نے ’ایک بڑی فتح حاصل کی ہے، اور امریکہ نے ہماری دس نکات پر مشتمل تجویز کو قبول کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ جنگ کے خاتمے کے لیے آخری تفصیلات طے کرنے کی غرض سے اسلام آباد میں مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔‘