امریکہ اور ایران نے منگل کے روز دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق کیا، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تنازع کو بڑھانے کی دی گئی آخری مہلت ختم ہونے سے صرف ایک گھنٹہ قبل طے پائی۔
ایران کا کہنا ہے کہ اس نے دو ہفتوں کی جنگ بندی قبول کر لی ہے، جبکہ مذاکرات جمعہ کے روز پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں شروع ہوں گے۔ یہ پیش رفت اس وقت ہوئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس شرط پر حملے روکنے پر رضامندی ظاہر کی کہ تہران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھول دے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ اس اہم آبی گزرگاہ سے محفوظ آمدورفت کو ملک کی مسلح افواج کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے دو ہفتوں تک یقینی بنایا جائے گا۔
ٹرمپ کا یہ اقدام پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست کے بعد سامنے آیا، جنہوں نے واشنگٹن سے معاہدے کی مہلت بڑھانے اور ایران سے آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ کیا تھا۔
ایران میں کیا ہورہا تھا؟
آخری لمحات میں جنگ بندی پر اتفاق:
امریکہ، ایران اور اسرائیل نے منگل کو دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق کیا۔ تہران نے عارضی طور پر آبنائے ہرمز کھولنے پر آمادگی ظاہر کی جبکہ وائٹ ہاؤس نے اسرائیل کی شمولیت کی تصدیق کی۔ یہ پیش رفت پاکستان کی قیادت کے ساتھ بات چیت کے بعد ممکن ہوئی۔
آبنائے ہرمز سے متعلق شرائط:
معاہدے کے تحت محفوظ گزرگاہ کو مربوط طریقے سے چلایا جائے گا، جبکہ ایران اور عمان گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کر سکیں گے۔ تہران اس آمدنی کو جنگ کے بعد تعمیر نو کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
دس نکاتی امن منصوبہ:
جمعہ کو اسلام آباد میں مذاکرات شروع ہوں گے، جن میں پاکستان کے وزیر اعظم ثالثی کریں گے۔ ایران کی تجاویز میں پابندیوں کا خاتمہ، جنگی نقصانات کے لیے فنڈ کا قیام، خلیج سے امریکی افواج کے ممکنہ انخلا، اور جوہری ہتھیار نہ بنانے کے وعدے کے بدلے یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم کرنا شامل ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ امریکہ ان تجاویز سے متفق ہے یا نہیں۔
تہران کی عبادت گاہ پر حملہ:
اسرائیلی فوج نے اعتراف کیا کہ ایک رات کے حملے میں، جس کا ہدف ایک اعلیٰ ایرانی کمانڈر تھا، تہران میں ایک عبادت گاہ کو نقصان پہنچا اور اس پر افسوس کا اظہار کیا۔
قیادت کا مؤقف:
رپورٹس کے مطابق ایرانی قیادت عوام کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ یہ جنگ “ایران کی شرائط پر ختم ہو رہی ہے”، اور رہنماؤں میں فخر کا احساس پایا جاتا ہے۔
سفارتی سرگرمیاں
چین کا کردار:
ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق چین نے ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کردار ادا کیا۔
نیٹو سربراہ کی ملاقات:
نیٹو کے سربراہ مارک روٹے بدھ کو واشنگٹن میں ٹرمپ سے ملاقات کریں گے، جس میں ایران اور یوکرین کی صورتحال زیر بحث آئے گی۔
خطے کا ردعمل
تہران اور بغداد میں جنگ بندی پر خوشی کا اظہار کیا گیا، تاہم کچھ شہریوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ امریکہ اور اسرائیل اس وقفے کو دوبارہ تیاری کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
اسرائیل کی مشروط حمایت
وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے ایران پر حملے روکنے کے امریکی فیصلے کی حمایت کی، لیکن واضح کیا کہ یہ جنگ بندی لبنان پر لاگو نہیں ہوتی۔
نازک صورتحال
ماہر ٹریٹا پارسی کے مطابق یہ جنگ بندی ایک حکمت عملی کے تحت پسپائی ہے اور آئندہ دو ہفتے فیصلہ کن ہوں گے۔
خلیجی ممالک
کویت، بحرین، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے جنگ بندی سے قبل حفاظتی اقدامات اور فضائی دفاعی نظام فعال کیے۔
بحرین میں ایک حملے کے بعد آگ پر قابو پا لیا گیا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
سعودی عرب کے کردار کو ثالثی میں اہم قرار دیا گیا۔
قطر نے جنگ بندی سے قبل خبردار کیا تھا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔
امریکہ میں کیا چل رہا تھا؟
وائٹ ہاؤس کے مطابق جنگ بندی ایک حکمت عملی ہے تاکہ مضبوط سفارتی پوزیشن حاصل کی جا سکے۔
امریکی صحافی شیلی کِٹلسن کو عراق میں اغوا کے بعد رہا کر دیا گیا۔
ایک آن لائن پلیٹ فارم پر جنگ سے متعلق درست پیش گوئیوں پر مبنی شرط لگانے کے معاملے پر اندرونی معلومات کے استعمال کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
اسرائیل میں نے جنگ کی حمایت کیوں کی؟
اسرائیل نے ایران کے ساتھ جنگ بندی کی حمایت کی، مگر لبنان کو اس میں شامل نہیں کیا۔
رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو جنگ بندی کے حوالے سے محتاط ہیں۔
شمالی اسرائیل میں ایران اور لبنان سے حملوں کے باعث پانچ افراد زخمی ہوئے۔
اسرائیلی فوج نے لبنان کے ساحلی علاقے میں جہازوں کو خبردار کیا ہے۔
عراق اور لبنان
لبنان میں اسرائیلی حملے جاری ہیں، جن میں ایمبولینس پر حملہ بھی شامل ہے۔
حزب اللہ نے سخت مؤقف اپناتے ہوئے دشمن کو جھکانے کا عزم ظاہر کیا۔
عراق میں ایران نواز گروہوں نے دو ہفتوں کے لیے اپنی کارروائیاں معطل کرنے کا اعلان کیا۔
جنگ بندی سے قبل عراق میں حملوں میں کم از کم سات افراد ہلاک ہوئے، جن میں دو بچے بھی شامل تھے۔
عالمی معیشت
جنگ بندی کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے نیچے آ گئیں۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ قیمتوں میں کمی آئی ہے، لیکن صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے اور منڈیاں محتاط انداز میں حالات کا جائزہ لے رہی ہیں۔