پاکستان کی میزبانی میں امریکہ اور ایران کے درمیان متوقع مذاکرات سے قبل ایرانی وفد کی قیادت کے حوالے سے غیر معمولی تبدیلی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جن کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کو جمعہ کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کی قیادت سونپی جا سکتی ہے۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف، جو حالیہ جنگ بندی میں ثالثی کا کردار ادا کر چکے ہیں، نے بدھ کی صبح اعلان کیا کہ دونوں ممالک کے وفود کو اسلام آباد مدعو کیا گیا ہے تاکہ اختلافات کے حل کے لیے بات چیت کو حتمی معاہدے تک پہنچایا جا سکے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی “اِسنا” کے مطابق قالیباف کو امریکی وفد کے سامنے ایرانی ٹیم کی قیادت دینے پر غور کیا جا رہا ہے، تاہم ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ دوسری جانب رپورٹس کے مطابق امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے۔
اگر یہ فیصلہ حتمی شکل اختیار کرتا ہے تو یہ پہلا موقع ہوگا کہ محمد باقر قالیباف براہِ راست سفارتی مذاکرات میں مرکزی کردار ادا کریں گے، کیونکہ ماضی میں یہ ذمہ داری عموماً وزیر خارجہ کے پاس رہی ہے۔ حالیہ اور گزشتہ جون میں ہونے والی 12 روزہ جنگ کے دوران بھی ایرانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی ہی کرتے رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اس بار مذاکرات کے طریقہ کار میں بھی تبدیلی متوقع ہے۔ ایرانی ٹیلی گرام چینل “فوری خبر” کا کہنا ہے کہ جمعہ کو ہونے والے مذاکرات ماضی کے بالواسطہ رابطوں کے برعکس براہِ راست ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب حالیہ جنگ کے اثرات ایران کی قیادت پر بھی نمایاں رہے ہیں، جہاں درجنوں اعلیٰ سیاسی و فوجی شخصیات امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہو چکی ہیں۔ اس دوران مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا رہبرِ اعلیٰ مقرر کیے جانے کے باوجود وہ اب تک عوامی سطح پر منظر عام پر نہیں آئے اور ان کی موجودگی محدود بیانات تک رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر قالیباف کو واقعی مذاکراتی قیادت سونپی جاتی ہے تو یہ ایران کی سفارتی حکمت عملی میں ایک اہم اور غیر معمولی پیش رفت تصور کی جائے گی۔