ایران کا جوہری موقف سخت، یورینیم افزودگی کا حق جنگ بندی کا ’ناگزیر‘ شرط قرار

فہرستِ مضامین

ایران کے جوہری ادارے کے سربراہ محمد اسلامی نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ ایران کے یورینیم افزودگی کے حق کا تحفظ امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے جنگ بندی یا معاہدے کے مذاکرات کے لیے ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس حق کو تسلیم کیے بغیر کوئی بھی مستقل معاہدہ ممکن نہیں۔

محمد اسلامی، جو ایران کے جوہری توانائی کے ادارے (AEOI) کے سربراہ ہیں، نے یہ اہم بیان تہران میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی یاد میں منعقدہ خصوصی تقریبات کے دوران دیا۔ یہ تقریبات ایرانی قیادت کی یاد میں منعقد کی گئی تھیں، جن میں متعدد اعلیٰ حکام اور بین الاقوامی میڈیا کے نمائندے شریک تھے۔ صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے اسلامی نے ایسوسی ایٹڈ پریس کے نمائندے سمیت حاضر صحافیوں کو بتایا کہ ایران اس معاملے پر کوئی سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔

انہوں نے امریکہ کی جانب سے ایران کے 10 نکاتی مستقل جنگ بندی کے منصوبے میں یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم کرنے سے انکار پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا: ’یہ ان ضروری نکات کا حصہ ہے جس پر کوئی بات نہیں کر رہا۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اپنے جوہری حقوق کے تحفظ کو ہر حال میں یقینی بنائے گا اور اسے کسی بھی معاہدے کا لازمی جزو قرار دیتا ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے اور دونوں ممالک اس ہفتے کے آخر میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں اہم مذاکرات کے لیے ملاقات کرنے والے ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق یہ ملاقات پاکستان کی ثالثی میں طے پائی ہے، جہاں ایران کے جوہری پروگرام سمیت علاقائی امن اور جنگ بندی کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ محمد اسلامی کا یہ بیان ایرانی قیادت کا سرکاری موقف ظاہر کرتا ہے اور یہ مستقبل کے مذاکرات کے لیے سخت رکاوٹ بن سکتا ہے۔ تہران بار بار یہ واضح کر چکا ہے کہ جوہری افزودگی اس کے قومی وقار اور خودمختاری کا لازمی حصہ ہے، جبکہ امریکہ اسے محدود کرنے پر اصرار کر رہا ہے۔

اس صورتحال سے مشرق وسطیٰ میں امن کی کوششوں پر بھی منفی اثر پڑنے کا اندیشہ ہے، کیونکہ دونوں فریقین کے درمیان جوہری مسئلے پر بنیادی اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں