اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر نے پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کے بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے “اشتعال انگیز اور ناقابلِ قبول” قرار دیا ہے۔
خواجہ آصف نے ایکس پر لکھا تھا کہ “اسلام آباد میں امن کی بات چیت چل رہی ہے اور لبنان میں نسل کشی ہو رہی ہے۔ غزہ، ایران اور اب لبنان… معصوم شہریوں کا خونریزی کا سلسلہ جاری ہے۔” انہوں نے اسرائیلی ریاست کو “کینسر زدہ” کہا۔ تاہم یہ پوسٹ اب غائب ہے۔
اسرائیلی وزیرِ خارجہ جدعون ساعر نے بھی سخت ردِعمل دیا: “یہودی ریاست کو کینسر زدہ کہنا اس کی تباہی کی اپیل ہے۔ ہم ان دہشت گردوں کے خلاف دفاع جاری رکھیں گے جو ہماری موجودگی ختم کرنا چاہتے ہیں۔”
نیتن یاہو کا واضح پیغام
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے دو ٹوک کہا: “ہم حزب اللہ کے خلاف جہاں بھی ضرورت ہو حملے جاری رکھیں گے۔ شمالی علاقوں کے لوگوں کی مکمل سلامتی بحال ہونے تک یہ سلسلہ نہیں رکے گا۔ جو بھی اسرائیلی شہریوں پر ہاتھ اٹھائے گا، اسے نشانہ بنایا جائے گا۔”
لبنان تنازع اور پاکستان کا کردار
پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف نے لبنانی ہم منصب نواف سلام سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اور اسرائیلی جارحیت کی سخت مذمت کی۔
تاہم اسرائیل کا موقف بالکل واضح ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی لبنان پر نافذ نہیں ہوتی۔ ایران اسے “سنگین خلاف ورزی” قرار دیتا ہے۔
اسرائیل میں اندرونی تنقید
اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لاپڈ نے نیتن یاہو پر شدید تنقید کی: “امریکہ اور ایران کے معاہدے میں اسرائیل کا کوئی کردار نہیں۔ نیتن یاہو نے ہمیں فون پر ہدایات لینے والا ملک بنا دیا ہے۔”
اسرائیلی میڈیا ‘ہاریٹز’ نے لکھا کہ جنگ بندی کے باوجود لبنان میں حملے جاری ہیں اور ایران کے جوہری پروگرام، میزائل سسٹم جیسے اہم مسائل ابھی حل طلب ہیں۔
پاکستان پر اسرائیلی شک
انڈیا میں اسرائیلی سفیر رووین آزار نے کہا: “ہم پاکستان کو قابلِ اعتماد ملک نہیں سمجھتے۔ امریکہ نے کچھ وجوہات سے اسے استعمال کیا ہے۔”
پاکستان اسرائیل کو سفارتی طور پر تسلیم نہیں کرتا اور فلسطین کے دو ریاستی حل کی حمایت کرتا ہے۔
اسلام آباد میں جاری تاریخی مذاکرات کے درمیان پاکستان اور اسرائیل کے درمیان الفاظ کی جنگ تیز ہو گئی ہے۔ نیتن یاہو لبنان میں کارروائی جاری رکھنے پر مصر ہیں جبکہ پاکستان امن کی ثالثی کر رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ سفارتی تناؤ مذاکرات پر کیا اثر ڈالتا ہے۔