اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات کسی ٹھوس نتیجے تک نہ پہنچ سکے، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس واپس وطن روانہ ہو گئے۔
ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب طویل نشست کے اختتام پر اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے صورتحال کو “ایک اچھی اور ایک مایوس کن خبر” سے تعبیر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی حکام کے ساتھ سنجیدہ اور مفصل بات چیت ضرور ہوئی، تاہم کسی حتمی معاہدے پر اتفاق نہ ہو سکا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ ناکامی جہاں امریکہ کے لیے باعثِ افسوس ہے، وہیں ایران کے لیے اس کے اثرات زیادہ اہم ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق امریکی وفد نے نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات میں حصہ لیا اور اپنی شرائط واضح انداز میں پیش کیں، لیکن ایران نے انہیں قبول نہیں کیا۔
جوہری معاملے پر بات کرتے ہوئے جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ ایرانی وفد کی جانب سے کوئی واضح یقین دہانی سامنے نہیں آئی کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے حصول کی کوشش نہیں کرے گا، جبکہ امریکہ کو اس حوالے سے دوٹوک اور مثبت یقین دہانی درکار ہے۔
مذاکرات کے دوران نائب صدر مسلسل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطے میں رہے اور کئی بار ان سے مشاورت کی۔ انہوں نے بتایا کہ امریکہ ایک سادہ مگر حتمی پیشکش چھوڑ کر جا رہا ہے، اب یہ ایران پر منحصر ہے کہ وہ اسے قبول کرتا ہے یا نہیں۔
انہوں نے پاکستان کی میزبانی پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شکریہ بھی ادا کیا۔
دوسری جانب ایران کے پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران نے مذاکرات میں مثبت نیت کا اظہار کیا، تاہم ماضی کے تجربات کے باعث وہ دوسرے فریق پر مکمل اعتماد نہیں کر سکتے۔ ان کے مطابق ایرانی وفد نے مختلف تجاویز پیش کیں، لیکن امریکی وفد اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔
قالیباف کا کہنا تھا کہ امریکہ اب ایرانی مؤقف اور اصولوں سے آگاہ ہو چکا ہے، اور اب یہ اسی پر منحصر ہے کہ وہ ایران کا اعتماد جیتنے کے قابل بنتا ہے یا نہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران سفارت کاری کو اپنے حقوق کے حصول کے لیے ایک مؤثر راستہ سمجھتا ہے اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
ادھر ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق امریکہ کے “حد سے زیادہ مطالبات” معاہدے کی راہ میں رکاوٹ بنے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس دورِ مذاکرات میں کسی بڑے بریک تھرو کی توقع بھی نہیں تھی، تاہم مستقبل میں پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ رابطے جاری رہنے کی امید ہے۔