سندھ کے ضلعے میرپورخاص کی عدالت نے طالبہ فہمیدہ لغاری کی ہراسمنٹ کے کیس میں نامزد مرکزی ملزم عابد لغاری کو ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔
پولیس کی جانب سے ملزم عابد لغاری کو اتوار کی صبح فرسٹ جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے ملزم کو چار دن کے ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا اور مزید سماعت 16 اپریل تک ملتوی کر دی گئی۔
میرپورخاص میں محمدی کالیج کی طالبہ فہمیدہ لغاری نے خودکشی کرلی تھی جس کے بعد ورثا نے الزام عائد کیا تھا کہ اس کو کلیج میں ہراسمنٹ کا سامنا تھا ورثا نے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا اس کے علاوہ سندھ کے دیگر شہرو میں بھی احتجاج کیے گئے۔
جامشورو میں فہمیدہ لغاری واقعے کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جس میں 10 طلبہ اور 60 نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ ان طالب علموں پر روڈ بلاک کرنے، ہنگامہ آرائی اور سرکاری ڈیوٹی میں رکاوٹ ڈالنے سمیت دیگر الزام عائد کیے گئے ہیں۔
ملزم عابد لغاری محکمہ تعلیم میں بھی ملازم تھا صوبائی وزیر سردار شاھ نے اس کی معطلی کا حکم جاری کیا ہے اور حکام کو ہدایت کی ہے کہ تحقیقات کی جائے کہ وہ کس طرح ڈبل ملازمت کر رہا تھا۔