21 گھنٹے کی بات چیت بے نتیجہ، ایران-امریکہ جنگ بندی خطرے میں؟

فہرستِ مضامین

ترتیب: اِشفاق احمد

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے ہونے والے طویل مذاکرات اتوار کو اسلام آباد میں ختم تو ہو گئے، مگر کسی حتمی معاہدے تک نہ پہنچ سکے، جس کے باعث نازک جنگ بندی بھی خطرے میں پڑ گئی۔

اتوار کے روز دونوں فریقین نے 21 گھنٹوں پر محیط مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ ایک دوسرے پر ڈال دیا۔ یہ جنگ، جو چھ ہفتے قبل شروع ہوئی تھی، ہزاروں جانیں لے چکی ہے—جن میں اکثریت ایرانی شہریوں کی ہے—اور عالمی سطح پر تیل و گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ بھی کر چکی ہے۔

امریکی وفد کے سربراہ نائب صدر جے ڈی وینس نے اسلام آباد سے روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، “بدقسمتی سے ہم کسی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے، اور میرے خیال میں یہ خبر ایران کے لیے امریکہ کے مقابلے میں زیادہ نقصان دہ ہے۔”

پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس موقع پر کہا کہ اسلام آباد دونوں دیرینہ حریف ممالک کے درمیان امن مذاکرات کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔

ایران کی صورتحال:

ایران کی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایک ہی نشست میں کسی معاہدے کی توقع رکھنا غیر حقیقی تھا۔ ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق، “ابتدا سے ہی یہ واضح تھا کہ ایک نشست میں پیش رفت ممکن نہیں، کسی کو ایسی امید نہیں رکھنی چاہیے تھی۔”

تہران میں شہریوں نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ وہ حالیہ فضائی حملوں کے بعد اگرچہ مایوسی کا شکار ہیں، لیکن پھر بھی امید رکھتے ہیں۔ تقریباً 9 کروڑ 30 لاکھ آبادی والے ملک میں ان حملوں نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی ہے، جبکہ امریکہ-اسرائیل جنگ کے دوران اب تک دو ہزار سے زائد ایرانی جاں بحق ہو چکے ہیں۔

وینس نے مزید کہا کہ امریکہ ایک “سادہ مگر حتمی اور بہترین پیشکش” دے کر جا رہا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ ایران اسے قبول کرتا ہے یا نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران ان کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ بریڈ کوپر سے متعدد بار بات چیت ہوئی۔

وینس کے مطابق، “ہم نے نیک نیتی سے مذاکرات کیے۔” اس دوران ان کے ہمراہ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی موجود تھے۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے مذاکرات کے دوران ہی دعویٰ کیا کہ امریکہ میدان جنگ میں پہلے ہی کامیابی حاصل کر چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا، “معاہدہ ہو یا نہ ہو، اس سے مجھے فرق نہیں پڑتا، کیونکہ ہم جیت چکے ہیں۔”

امریکی فوج نے بتایا کہ دو جنگی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے تاکہ بارودی سرنگوں کی صفائی کی تیاری کی جا سکے، تاہم ایرانی سرکاری میڈیا نے اس دعوے کی تردید کی۔

امریکی ماہر ڈیویڈ ڈی روش کے مطابق واشنگٹن نے مذاکرات میں اپنا مؤقف واضح رکھا اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ ان کے بقول، امریکہ کا بنیادی مؤقف یہی ہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

لبنان کی صورتحال:

ادھر لبنان میں اسرائیلی حملے جاری رہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے جنوبی علاقے جوئیہ میں ایک راکٹ لانچر کو نشانہ بنایا جو فائرنگ کے لیے تیار تھا۔

گزشتہ دنوں لبنان میں اسرائیل کے ساتھ ممکنہ براہ راست مذاکرات کے خلاف مظاہروں کی لہر بھی دیکھی گئی، جن میں بیروت کا احتجاج نمایاں تھا۔

الجزیرہ کی رپورٹر کے مطابق اگرچہ امریکہ کے دباؤ پر بیروت میں وقتی سکون آیا ہے، لیکن جنوبی لبنان میں حملوں کی شدت برقرار ہے اور وہاں کے رہائشیوں کی مشکلات میں کوئی خاص کمی نہیں آئی۔

لبنانی وزارت صحت کے مطابق 2 مارچ سے اب تک اسرائیلی حملوں میں کم از کم 2020 افراد ہلاک اور 6436 زخمی ہو چکے ہیں۔

اسرائیل کی صورتحال:

اسرائیلی چینل 12 کے مطابق لبنان سے ایک ڈرون داغا گیا، جس کے باعث اپر گیلیلی کے علاقے میں سائرن بج اٹھے، تاہم اسے فضا میں ہی مار گرایا گیا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں