ائیرپورٹ سے عدالت تک: سونے کا مقدمہ جو ریاستی اختیار پر سوال بن گیا

فہرستِ مضامین

کسٹمز حکام نے ایک مسافر عباس علی کے سامان کی تلاشی کے دوران تقریباً تین کلو سونے کے زیورات، 10 ہزار امریکی ڈالر اور 2,429 تھائی بھات برآمد کیے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ابتدائی پوچھ گچھ میں مسافر نے کسی بھی قابلِ ڈیکلریشن یا ممنوعہ چیز کی موجودگی سے انکار کیا تھا، مگر تلاشی میں سب کچھ سامنے آ گیا۔

معاملہ یہیں نہیں رکا۔ عباس علی نہ تو مطلوبہ دستاویزات پیش کر سکے اور نہ ہی اس قیمتی سامان کی باقاعدہ ڈیکلریشن کی گئی تھی۔ نتیجتاً ایف آئی آر درج ہوئی اور 12 نومبر 2004 کو کسٹمز نے ’آرڈر اِن اوریجنل‘ جاری کرتے ہوئے سونا اور غیر ملکی کرنسی ضبط کر لی۔

تحقیقات کے دوران ایک نیا پہلو سامنے آیا کہ برآمد شدہ زیورات دراصل ایک جیولری کمپنی کے تھے، جو عباس علی کے حوالے کیے گئے تھے۔ یوں یہ کیس ایک سادہ اسمگلنگ کے معاملے سے نکل کر ملکیت اور قانونی اختیار کے پیچیدہ تنازع میں بدل گیا۔

ضبطی کے بعد حیران کن موڑ

اس مقدمے کا سب سے غیر معمولی پہلو بعد میں سامنے آیا، جب کسٹمز حکام نے ضبط شدہ سونے کو پاکستان منٹ بھجوا کر پگھلا دیا۔ زیورات کی اصل شکل ختم ہو گئی اور ریفائننگ کے بعد وزن کم ہو کر 2467.3 گرام رہ گیا۔

بعد ازاں اس سونے کو گولڈ بار نمبر 2959 کی شکل دے دی گئی، جسے 29 جون 2007 کو اسٹیٹ بینک کے حوالے کر دیا گیا۔ اسی روز کے نرخ کے مطابق اس کی مالیت تقریباً 63 لاکھ روپے لگائی گئی اور رقم سرکاری خزانے میں جمع کر دی گئی۔

قانونی جنگ: اختیار یا ملکیت؟

یہیں سے مقدمہ ایک بڑے قانونی سوال میں تبدیل ہو گیا: کیا ریاست کو یہ اختیار حاصل ہے کہ ضبط شدہ مال کو اپنی مرضی سے پگھلا دے؟ اور اگر ایسا کیا جائے تو کیا مالک کو پرانے نرخ پر رقم دینا کافی ہے؟

لاہور ہائی کورٹ نے اپنے حالیہ فیصلے میں واضح کیا کہ اگر ضبط شدہ مال کو قانون کے مطابق فروخت یا نیلام نہیں کیا گیا، تو اسے پگھلا کر قیمت مقرر کرنا کسی صورت قانونی متبادل نہیں ہو سکتا۔ عدالت نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ریاست محض امین ہے، مالک نہیں۔

عدالتی سفر: ٹریبونل سے سپریم کورٹ تک

یہ کیس کئی مراحل سے گزرا۔ ابتدا میں مکمل ضبطی کا حکم دیا گیا، پھر اپیلوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ 2012 میں کسٹمز اپیلیٹ ٹریبونل نے سونا اور 10 ہزار ڈالر واپس کرنے کا حکم دیا، تاہم بعد میں لاہور ہائی کورٹ نے اس فیصلے کو تکنیکی بنیادوں پر کالعدم قرار دے دیا۔

مقدمہ دوبارہ ٹریبونل گیا، جہاں ایک بار پھر عباس علی کے حق میں فیصلہ آیا۔ ٹریبونل نے ہدایت کی کہ ایک لاکھ روپے جرمانہ لے کر سونا واپس کیا جائے اور 10 ہزار ڈالر بھی لوٹائے جائیں۔

کسٹمز حکام اس فیصلے کو سپریم کورٹ لے گئے، مگر جون 2025 میں سپریم کورٹ نے ان کی درخواست مسترد کر دی، یوں ٹریبونل کا فیصلہ حتمی ہو گیا۔

حتمی فیصلہ: شہری کا حق برقرار

لاہور ہائی کورٹ نے اپنے تازہ فیصلے میں کہا کہ جب سپریم کورٹ تک شہری کا حق تسلیم ہو چکا ہے تو محکمہ یکطرفہ طور پر پرانی قیمت ادا کر کے معاملہ ختم نہیں کر سکتا۔

عدالت نے کسٹمز کے 17 جولائی 2025 کے اس حکم کو بھی کالعدم قرار دے دیا، جس کے تحت تقریباً 58 لاکھ روپے ادا کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔

آخرکار عدالت نے حکم دیا کہ:

عباس علی کو گولڈ بار نمبر 2959 (وزن 2467.3 گرام) واپس کیا جائے

ایک لاکھ روپے جرمانہ وصول کیا جائے

10 ہزار امریکی ڈالر یا اس کے مساوی رقم موجودہ شرح مبادلہ کے مطابق ادا کی جائے

اصل نکتہ کیا تھا؟

عدالت نے واضح کیا کہ یہ مقدمہ صرف سونے یا کرنسی کا نہیں بلکہ ریاستی اختیار اور شہری حقوق کا تھا۔ اگرچہ ائیرپورٹ پر ڈیکلریشن نہیں کی گئی تھی، تاہم بعد میں منی ٹریل ثابت ہو گئی، جس کی بنیاد پر صرف جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے، مکمل ضبطی نہیں۔

یہ فیصلہ ایک اہم نظیر کے طور پر سامنے آیا ہے، جو یہ واضح کرتا ہے کہ ریاست ضبط شدہ مال کی محافظ تو ہو سکتی ہے، مگر اس کی مالک نہیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں