صدر شی کی وارننگ: قانون کو نظرانداز کرنا امن کے لیے خطرہ ہے

فہرستِ مضامین

چین کے صدر شی جن پنگ نے مشرق وسطیٰ کی بگڑتی صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے زور دیا ہے کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے بین الاقوامی قوانین کی بالادستی ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی اصولوں کو حالات کے مطابق اپنانا یا نظر انداز کرنا ایک خطرناک رجحان ہے جو تنازعات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بیجنگ پہلے ہی امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کو غیر قانونی قرار دے کر تنقید کرتا رہا ہے، تاہم صدر شی جن پنگ نے اس تنازع پر عوامی سطح پر نسبتاً محتاط رویہ اختیار کیا ہے۔ اس پس منظر میں ان کا حالیہ بیان خاص اہمیت اختیار کر گیا ہے، خصوصاً جب وہ آئندہ ماہ بیجنگ میں امریکی صدر سے ملاقات کرنے والے ہیں۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق یہ بیان انہوں نے ابو ظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زید النہیان سے ملاقات کے دوران دیا۔ اس موقع پر صدر شی نے واضح کیا کہ عالمی برادری کو قانون کی حکمرانی پر مستقل طور پر قائم رہنا ہوگا، نہ کہ اسے وقتی مفادات کے تحت استعمال کیا جائے۔

یہ سفارتی سرگرمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ حالیہ دنوں میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے، جس کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

فروری کے اختتام پر شروع ہونے والی اس جنگ کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل کو سخت محدود کر دیا ہے، خاص طور پر ان جہازوں کے لیے جنہیں وہ مخالف ممالک سے وابستہ سمجھتا ہے۔ اس کے جواب میں امریکہ نے پیر کے روز ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی شروع کر دی اور ایران پر “معاشی دہشت گردی” کا الزام عائد کیا۔

آبنائے ہرمز، جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے، اس تنازع کے باعث شدید متاثر ہوئی ہے اور یہاں سے تیل کی سپلائی میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ دوسری جانب ایران کی جانب سے خطے کے خلیجی ممالک کے توانائی کے ڈھانچے کو نشانہ بناتے ہوئے میزائل اور ڈرون حملے بھی کیے گئے ہیں، جس سے خطے میں عدم استحکام مزید بڑھ گیا ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں