پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف چار روزہ اہم سفارتی دورے پر بدھ کے روز سعودی عرب، قطر اور ترکی کے لیے روانہ ہو گئے۔ حکام کے مطابق یہ دورہ 15 سے 18 اپریل تک جاری رہے گا، جس میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر بات چیت متوقع ہے۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق وزیراعظم سعودی عرب اور قطر میں قیادت سے دوطرفہ امور پر تبادلۂ خیال کریں گے، جبکہ ترکی کے شہر انطالیہ میں وہ عالمی سطح کے اہم اجتماع، انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شرکت کریں گے۔ اس موقع پر ان کی ترک صدر رجب طیب ایردوآن سمیت مختلف عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی شیڈول ہیں۔
یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں بعد براہِ راست مذاکرات ہوئے، تاہم کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا۔
ذرائع کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو سکتا ہے، جبکہ ایک نازک جنگ بندی بھی تاحال برقرار ہے۔
وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود ہیں، جو حالیہ امریکا-ایران مذاکرات میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق وزیراعظم کا یہ دورہ نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے بلکہ خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں میں پاکستان کے کردار کو مزید مؤثر بنانے کے لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔