چین اور روس کا بڑھتا اتحاد، عالمی بحرانوں کے سائے میں نئی سفارتی سرگرمیاں

فہرستِ مضامین

بیجنگ میں ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقات میں چین اور روس نے اپنے اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ عالمی سطح پر جاری تنازعات اور توانائی بحران کے پس منظر میں نئی سفارتی صف بندی واضح ہو رہی ہے۔

چینی صدر شی جن پنگ نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے ملاقات میں کہا کہ دونوں ممالک کو اپنے مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے قریبی تعاون بڑھانا چاہیے اور عالمی جنوب کے ممالک کے اتحاد کو مضبوط کرنا چاہیے۔

انہوں نے موجودہ عالمی صورتحال کو “بے یقینی اور تبدیلی کا دور” قرار دیتے ہوئے چین-روس تعلقات کو استحکام اور اعتماد کی علامت قرار دیا۔

اگرچہ ملاقات میں براہِ راست کسی تنازع کا ذکر نہیں کیا گیا، تاہم مبصرین کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی، خصوصاً توانائی اور تجارتی راستوں کی بندش، گفتگو کے پس منظر میں موجود تھی۔

آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی منڈیوں پر دباؤ ڈال رہی ہے، جہاں تیل اور گیس کی بڑی مقدار متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

روس نے اس موقع پر چین کو توانائی کی ممکنہ فراہمی کی پیشکش بھی کی ہے، جسے دونوں ممالک کے بڑھتے اقتصادی تعاون کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔

ادھر چین نے مختلف عالمی رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتوں میں خود کو ایک “استحکام پیدا کرنے والی طاقت” کے طور پر پیش کیا ہے، جو مشرق وسطیٰ سمیت مختلف خطوں میں امن کے لیے کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق چین اور روس کے درمیان بڑھتا ہوا رابطہ عالمی طاقتوں کے نئے توازن کی طرف اشارہ کر رہا ہے، جہاں معاشی، توانائی اور جغرافیائی سیاست تیزی سے نئی شکل اختیار کر رہی ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں